🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

18. بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ .
پانی کے ذریعے استنجاء کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟" قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ، فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کرتے ہوئے، طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف فرمائی ہے، تو طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے جس کو تم اختیار کرتے ہو؟ اُن لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہمیں کسی مخصوص چیز کا علم نہیں ہے، البتہ یہ ہے کہ ہمارے کچھ یہودی پڑوسی ہیں، وہ پاخانہ کرنے کے بعد اپنی شرم گاہوں کو (پانی کے ذریعے) دھوتے ہیں، تو جس طرح وہ دھوتے ہیں، اسی طرح ہم بھی دھو لیتے ہیں۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے، جسے امام مالک، یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1054]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1055
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا) بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ:" مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي أَثْنَى اللَّهُ عَلَيْكُمْ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ، أَوْ قَالَ: مَقْعَدَتَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هُوَ هَذَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: اس (مسجد) میں ایسے لوگ ہیں، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا: طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے؟ جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے، ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے، جو بھی مرد یا عورت پاخانہ کرتا ہے، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے، یہاں ایک لفظ راوی نے مختلف نقل کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کی وجہ یہی ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند حسن ہے، البتہ یہ ہے کہ ابن اسحق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ان الفاظ کے ساتھ
یہ روایت نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1055]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1056
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا قَبْلَكَ أَهْلَ كِتَابٍ، وَإِنَّا نُؤْمَرُ بِغَسْلِ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ رَضِيَ عَنْكُمْ، وَأَثْنَى عَلَيْكُمْ، وَأَحَبَّكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَامٌ الطَّوِيلُ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ سے پہلے ہم اہل کتاب تھے، ہمیں (پاخانہ اور پیشاب کے بعد) شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے راضی ہو گیا، اُس نے تمہاری تعریف کی اور اُس نے تم سے محبت کا اظہار کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1056]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1057
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، فَقَامَ عَلَى بَابِهِ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ، فَمَا طَهُورَكُمْ؟" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ كِتَابٍ، وَنَجِدُ الِاسْتِنْجَاءَ عَلَيْنَا بِالْمَاءِ، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ الْيَوْمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ، فَقَالَ: (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ) .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَلَكِنَّهُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَيَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ.
محمد بن عبداللہ بن سلام، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں یعنی مسجد قباء میں تشریف لائے، جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے، آپ اس کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے، تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے تو طہارت کے حصول کے لیے تم لوگوں کا طریقہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب ہم اہل کتاب تھے، تو پانی کے ذریعے استنجاء کرنا اپنے اوپر لازم قرار دیتے تھے، اور اب بھی ہم ایسا ہی کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طہارت کے حوالے سے، اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے: اُس میں ایسے لوگ ہیں، جو اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے، جس کے بارے میں محدثین نے اختلاف کیا ہے، تاہم امام أحمد، یحییٰ بن معین، ابوزرعہ اور یعقوب بن شیبہ نے اسے ثقہ قرار دیا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1057]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1058
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَقَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا - يَعْنِي قُبَاءَ - فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ خَيْرًا، أَفَلَا تُخْبِرُونِي؟" قَالَ: يَعْنِي قَوْلَهُ: (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ) . قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ - يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ، كَمَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا.
محمد بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے، کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گے؟ (کہ تم لوگوں کا طہارت کا مخصوص طریقہ کیا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا: اُس میں ایسے افراد ہیں، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں، اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے راوی بیان کرتے ہیں: تو اُن لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے اس چیز کو پایا تھا، کہ تورات میں اسے ہم پر لازم قرار دیا گیا۔ ان لوگوں کی مراد، پانی کے ذریعے استنجاء کرنا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے، محمد بن عبداللہ بن سلام کے حوالے سے نقل ہے، انہوں نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ یہ ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے منقول ہے، جیسا کہ امام طبرانی نے نقل کیا ہے، اس روایت کی سند میں شہر نامی راوی ہے (جو ضعیف ہے)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1058]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1059
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا أَهْلَ قُبَاءَ، مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي قَدْ خُصِّصْتُمْ بِهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ) . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ يَخْرُجُ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اہل قباء! طہارت کے حصول کا وہ مخصوص طریقہ کیا ہے؟ جس کی وجہ سے اس آیت میں بطور خاص تمہارا ذکر کیا گیا ہے: اس (مسجد) میں ایسے افراد ہیں، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں، اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے جو بھی شخص پاخانہ کرتا ہے، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی شہر نامی راوی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1059]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1060
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رِجَالٌ مِنَّا إِذَا خَرَجُوا مِنَ الْغَائِطِ يَغْسِلُونَ أَثَرَ الْغَائِطِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ: (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا) .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے لوگ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے، تو اس کے بعد پاخانے کے اثر کو دھو لیتے تھے، اُن لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: اس (مسجد) میں ایسے افراد ہیں، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1060]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1061
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ فِيهِمْ - عَزَّ وَجَلَّ - (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ؟) " قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ دُونَ قَوْلِهِ:" وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ".
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ لوگ کون ہیں؟ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اس (مسجد) میں ایسے افراد ہیں، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے انہوں نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو پانی کے ذریعے استنجاء کرتے ہیں اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1061]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: غَسْلُ الْمَرْأَةِ قُبُلَهَا مِنَ السُّنَّةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ عَنْعَنْهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: عورت کا (پیشاب کرنے کے بعد) اپنی اگلی شرمگاہ کو دھونا سنت (کے حکم سے ثابت) ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے، وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے
یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1062]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں