🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

69. بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ .
موزوں پر مسح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1346
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَضِّئْنِي". قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا. قَالَ:" إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے وضو کرواؤ! میں آپ کے لئے وضو کا پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے استنجاء کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں ڈال کر اسے پونچھ کر اُسے دھو لیا، پھر آپ نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ اپنے پاؤں نہیں دھوئیں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے ان دونوں کو جب موزوں میں داخل کیا تھا، تو یہ دونوں پاک (یعنی باوضو) تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1346]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1347
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ نَزَعَ خُفَّيْهِ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا، وَلَكِنْ حُبِّبَ لِيَ الْوُضُوءُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے موزے اُتارے، لوگوں نے اُن کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول کو ان دونوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن مجھے وضو کرنا پسند ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1347]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: بِئْسَ مَا لِي إِنْ كَانَ لَكُمْ مَهْنَاهُ وَعَلَيَّ مَأْثَمُهُ.
وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں: سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے اور خود پاؤں دھویا کرتے تھے، اُن سے اس بارے میں بات کی گئی، تو انہوں نے فرمایا: یہ تو میرے لیے بہت برا ہو گا، کہ اگر اس کی سہولت تمہارے لئے ہو، اور اس کا گناہ مجھ پر ہو۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1348]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1349
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ:" لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ:" ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ" - رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک سفر کے دوران، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا، آپ نے اپنا چہرہ اور دونوں بازو دھو لیے، اپنے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے موزے اتار دوں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں! میں نے جب ان دونوں (پاؤں کو موزوں میں) داخل کیا تھا، تو یہ دونوں پاک تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اُس کے بعد میں کبھی ننگے پاؤں نہیں چلا،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، یہ صحیح میں بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: اس کے بعد میں کبھی بھی ننگے پاؤں نہیں چلا اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1349]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح، رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1350
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يَرْوِي الْمَقَاطِيعَ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں اور چادر پر مسح کیا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن ابوامیہ ہے، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں یہ مقطوع روایات نقل کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1350]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ وَعَنْهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، فَإِنْ كَانَ ابْنَ حَرْبٍ، وَإِلَّا فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث نقل کی ہے، جس میں یہ مذکور ہے: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کیا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام ہے، جس نے ازرق بن قیس سے روایت نقل کی ہے اور اس سے یزید بن ہارون نے روایت نقل کی ہے، اگر تو وہ حرب کا بیٹا ہے، تو پھر ٹھیک ہے، ورنہ میں اُس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1351]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1352
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا لَبِسَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَلِعُمَرَ فِي الصَّحِيحِ ذِكْرٌ فِي قِصَّةِ سَعْدٍ غَيْرُ هَذَا، وَلَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ آخَرُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے، جبکہ آدمی نے انہیں باوضو حالت میں پہنا ہو۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے، اُن کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے ایک اور حدیث بھی نقل کی ہے، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1352]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1353
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ دَخَلَ الْكَنِيفَ ثُمَّ خَرَجَ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَقَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَعِنْدَ الْبَزَّارِ نَحْوُهُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لئے گئے، جب وہ واپس آئے (تو وضو کرتے ہوئے) انہوں نے موزوں پر مسح کیا اور یہ بات بیان کی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی (ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تھے) جب آپ واپس تشریف لائے (تو وضو کرتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تھا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1353]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1354
وَعَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَخْطَأَ فِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ. قُلْتُ: كَذَا قَالَ، وَيَأْتِي حَدِيثُ عَوْسَجَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِيهِ.
عوسجہ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا، آپ موزوں پر مسح کرتے رہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ عوسجہ کے حوالے سے، اُن کے والد کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور مہدی بن حفص نامی راوی نے اس میں غلطی کی ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: انہوں نے اسی طرح کہا: ہے، عوسجہ بن مسلم کے حوالے سے، اُن کے والد سے منقول روایت آگے آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1354]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ دَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ وَعَلَيْهِ خُفَّانِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ رَأَيْتُ عَلَيْهِ الْخُفَّيْنِ فِي الْإِسْلَامِ الْمُغِيرَةُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمْسَحُونَهَا وَيَقُولُونَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: الْخِفَافُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّكُمْ" سَيَكْثُرُ لَكُمْ مِنَ الْخِفَافِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا بِالْوُضُوءِ لِلصَّلَاةِ؟ قَالَ:" تَمْسَحُونَ أَوْ تَوَضَّئُوا عَلَيْهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اندر آئے انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے، میں نے اسلام قبول کرنے کے بعد، سب سے پہلے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو موزے پہنے ہوئے دیکھا لوگوں نے اُن پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور دریافت کرنا شروع کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: موزے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم لوگوں کو بکثرت موزے ملیں گے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! نماز کے لیے وضو کے حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان پر مسح کر لینا، راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں: ان پر وضو کر لینا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1355]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں