🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

70. بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ .
موزوں پر مسح کے بارے میں مدت کا تعین کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1384
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ".
رَوَاهُ الْقَطِيعِيُّ مِنْ زِيَادَاتِهِ عَلَى مُسْنَدِ أَحْمَدَ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے: مقیم کے لئے اس کی مدت ایک دن اور ایک رات ہو گی اور مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہو گی۔
یہ روایت قطیعی نے مسند أحمد پر اپنی زیادات میں نقل کی ہے، اسے امام ابویعلیٰ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے، امام بزار اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1384]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَا يَنْزِعُهُمَا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا انسان ہر وقت موزوں پر مسح کر سکتا ہے؟ یوں کہ وہ انہیں نہ اتارے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں!
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1385]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
وَلَهَا عِنْدَ أَبِي يَعْلَى قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَخْلَعُ الرَّجُلُ خُفَّيْهِ كُلَّ سَاعَةٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا مَا بَدَا لَهُ".
وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت نقل کی ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آدمی موزہ، ہر گھڑی میں اتار سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! جب تک اُسے مناسب لگے وہ اُن پر مسح کرتا رہے۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن اسحاق بن یسار ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ قومی نہیں ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1386]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفٌ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الْكُوفِيُّ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے، موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ کوفی ہے، جس کی نسبت جھوٹ بولنے کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1387]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً؛ اس کے راوی یوسف بن عطیہ الکوفی پر کذب کا الزام ہے۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1388
وَلِابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَيْضًا كُنَّا نَمْسَحُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ.
وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
امام بزار نے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موزوں پر مسح کیا کرتے تھے، مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن اور تین راتیں تھی، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات تھی۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیمان بن بشیر ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1388]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1389
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا وَنَحْنُ مَعَهُ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ بَوْلٍ وَنَوْمٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَكِنْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: رَدِيءُ الْحِفْظِ يُخْطِئُ.
ابوعبیدہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے، جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے کہ ہم تین دن اور تین راتوں تک موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کا معاملہ مختلف ہے، پیشاب کرنے یا سونے (کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم انہیں نہ اُتاریں)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے، تاہم ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: یہ خراب حافظے کا مالک ہے اور غلطی کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1389]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1390
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ مسافر شخص تین دن اور تین راتوں تک، اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1390]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ:" ثَلَاثٌ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ. وَأَيُّوبُ بْنُ خُرَيْمٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ غَيْرَ ابْنِ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَجْرَحْ وَلَمْ يُوَثِّقْ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اس کی مخصوص مدت) مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لیے، ایک دن اور ایک رات ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، ایوب بن خریم نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے، میں نے ابن ابوحاتم کے علاوہ اور کسی کو نہیں پایا، لیکن اُنہوں نے نہ اس پر جرح کی ہے اور نہ توثیق کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1391]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1392
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيَّ فَذَهَبْتُ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ لَيْسَ لَهَا يَدَانِ، فَأَلْقَاهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَقَالَ:" صُبَّ عَلَيَّ" فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَكَانَتْ سُنَّةً لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ - وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ، إِلَّا ابْنَ عُدَيٍّ فَقَالَ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ، وَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَيُقْبَلُ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ، وَهَذَا رَوَى عَنْهُ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، فَهُوَ مَقْبُولٌ عَلَى مَا قَالَهُ ابْنُ عَدِيٍّ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے میری طرف اشارہ کیا، تو میں آگے ہوا، میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شامی جبہ پہنا ہوا تھا، جس کے بازو نہیں تھے، آپ نے گردن کی طرف سے اسے اتارا اور ارشاد فرمایا: مجھ پر پانی ڈالو، میں نے آپ پر پانی انڈیلا، تو آپ نے وضو کرتے ہوئے، موزوں پر مسح کیا، مسافر کے لیے سنت تین دن اور تین راتیں ہے، جبکہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اودی ہے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، صرف ابن عدی کا معاملہ مختلف ہے، وہ یہ کہتے ہیں: میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے، جب کوئی ثقہ شخص اس سے روایت نقل کرے، تو یہ حد سے آگے چلا جاتا ہے اگرچہ یہ حدیث میں قوی نہیں ہے، لیکن اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا، اور جب کسی ثقہ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہو، تو اسے قبول کیا جائے گا۔ مکی بن ابراہیم نے اس سے روایت نقل کی ہے، اور وہ صحیح کے رجال میں سے ایک ہیں، تو ابن عدی کے قول کے مطابق یہ راوی مقبول شمار ہو گا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1392]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد مقبول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1393
وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الضَّبِّيُّ بْنُ الْأَشْعَثِ، لَهُ مَنَاكِيرُ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضبی بن اشعث ہے، جس سے منکر روایات منقول ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1393]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں