مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا .
جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
حدیث نمبر: 1802
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَنْ يَنْسَى الصَّلَاةَ قَالَ:" يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ فِي السُّنَنِ بِلَفْظِ:" مَنْ نَامَ عَنِ الْوَتَرِ أَوْ نَسِيَهُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ فِي السُّنَنِ بِلَفْظِ:" مَنْ نَامَ عَنِ الْوَتَرِ أَوْ نَسِيَهُ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس شخص کے بارے میں نقل کیا ہے، جو نماز ادا کرنا بھول جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی اسے اس وقت ادا کر لے جب وہ اسے یاد آ جائے“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، اور یہ ”سفن“ میں ان الفاظ میں منقول ہے: ”جو شخص وتر ادا کیے بغیر سو جائے یا اسے ادا کرنا بھول جائے“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1802]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، اور یہ ”سفن“ میں ان الفاظ میں منقول ہے: ”جو شخص وتر ادا کیے بغیر سو جائے یا اسے ادا کرنا بھول جائے“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1802]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1803
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرِهِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْكُمْ أَرْوَاحَكُمْ، فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ، وَمَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے اس دوران وہ سب لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ مردہ حالت میں تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ارواح کو تمہاری طرف لوٹا دیا ہے، جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے تو وہ اس کو اس وقت ادا کر لے جب وہ بیدار ہو جائے اور جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے تو وہ اسے اس وقت ادا کرے جب وہ اسے یاد آ جائے“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1803]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1803]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1804
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص نماز بھول جائے یا اس کے وقت سویا رہ جائے تو جب وہ اسے یاد آئے اس وقت وہ اسے ادا کر لے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1804]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1804]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1805
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُمْ نَامُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا حِينَ نَامُوا، فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ بِلَالٌ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کے دوران سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کیں پھر سیدنا بلال ہیں مینز نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی یہ سورج نکل آنے کے بعد کی بات ہے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1805]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1805]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1806
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ:" مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ؟" فَقُلْتُ: أَنَا، فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ، وَنِمْتُ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذِهِ الْأَرْوَاحَ عَارِيَّةٌ فِي أَجْسَادِ الْعِبَادِ، يَقْبِضُهَا وَيُرْسِلُهَا إِذَا شَاءَ، فَاقْضُوا حَوَائِجِكُمْ عَلَى رِسْلِكُمْ" فَقَضَيْنَا حَوَائِجَنَا عَلَى رِسْلِنَا، وَتَوَضَّأْنَا وَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُتْبَةُ أَبُو عَمْرٍو رَوَى عَنْ الشَّعْبِيِّ وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُتْبَةُ أَبُو عَمْرٍو رَوَى عَنْ الشَّعْبِيِّ وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج رات کون ہماری پہرہ داری کرے گا میں نے عرض کی: میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور لوگ بھی سو گئے اور میں بھی سو گیا ہم لوگ سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو بے شک یہ ارواح بندوں کے اجسام میں عاریت کے طور پر ہیں وہ جب چاہتا ہے انہیں قبض کر لیتا ہے، اور انہیں چھوڑ دیتا ہے، تو تم آرام سے اپنی حاجات سے فارغ ہو جاؤ راوی کہتے ہیں: ہم نے آرام سے حاجات پوری کیں پھر ہم نے وضو کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے فجر کی دو رکعاتیں ادا کیں پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو عتبہ ہے، جس نے امام شعبی سے روایت نقل کی ہے، اور اس سے محمد بن حسن اسدی نے روایت نقل کی ہے: میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1806]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو عتبہ ہے، جس نے امام شعبی سے روایت نقل کی ہے، اور اس سے محمد بن حسن اسدی نے روایت نقل کی ہے: میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1806]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1807
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز بھول جائے تو اس کا وقت وہ ہو گا جب وہ اسے یاد آئے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر بن ابوعطاف ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1807]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر بن ابوعطاف ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «المعجم الاوسط للطبراني باب العين، من اسمه مقدام 9013 سنن الدارقطنى كتاب الصلاة، باب وقت الصلاة المنسية 1358 السنن الكبرى للبيهقي كتاب الصلاة جماع ابواب صفة الصلاة باب لا تفريط على من نام عن صلاة، 2964 معرفة السنن والآثار للبيهقى كتاب الصلاة قضاء الفائتة 1041»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1808
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَعَرَّسَ بِنَا تَعْرِيسَةً فِي آخِرِ اللَّيْلِ، فَاسْتَيْقَظْنَا وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ:" الرَّحِيلَ الرَّحِيلَ"، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى كَانَتِ الشَّمْسُ فِي كَبِدِ السَّمَاءِ، نَزَلَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُعِيدُهَا مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا؟ فَقَالَ:" نَهَانَا اللَّهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنَّا".
قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے وقت سفر کر رہے تھے رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑاؤ کرنے کا حکم دیا (ہم لوگ سو گئے) جب ہم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روانہ ہو جاؤ روانہ ہو جاؤ ہم لوگ روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جب سورج آسمان کے جگر میں تھا تو آپ نیچے اترے آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی ہم میں سے ہر ایک شخص نے دو رکعات (یعنی سنتیں) ادا کیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم کل اس نماز کے مخصوص وقت میں اس کو دہرا لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں سود سے منع کیا ہے، تو کیا وہ اس (سود) کو ہم سے قبول کر لے گا“۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1808]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1808]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1809
وَعَنْ عِمْرَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ: ابْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ثِقَةٌ صَدُوقٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ: ابْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ثِقَةٌ صَدُوقٌ.
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے تو وہ اسے اس وقت ادا کر لے جب وہ اسے یاد آ جائے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بن ابونعیم ہے، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے، اور ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے أحمد بن سنان کہتے ہیں: ابن ابونعیم ”ثقہ“ اور صدوق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1809]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بن ابونعیم ہے، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے، اور ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے أحمد بن سنان کہتے ہیں: ابن ابونعیم ”ثقہ“ اور صدوق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1809]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1810
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ غَفَلَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَوْ طَلَعَتْ، مَا كَفَّارَتُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي فَيُحْسِنُ صَلَاتَهُ، وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي) ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ.
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو نماز سے غافل رہتا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا یا طلوع ہو گیا (اس شخص نے دریافت کیا:) اس کا کفارہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر نماز ادا کرے اور اچھی طرح نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اس کا صرف یہی کفارہ ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی ہے، اس نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے، اور اس کے حوالے سے موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1810]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی ہے، اس نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے، اور اس کے حوالے سے موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1810]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1811
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسِيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، فَذَكَرَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى ذَهَبَ النَّهَارُ، أَدْخَلَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا" فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احزاب کے دن ظہر اور عصر کی نماز ادا نہیں کر سکے مغرب کے بعد آپ کو وہ یاد آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں نماز ادا نہیں کرنے دی یہاں تک کہ دن رخصت ہو گیا اللہ تعالی ان کی قبروں میں آگ داخل کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے بعد یہ دونوں نمازیں ادا کیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1811]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1811]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف