🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

21. بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا .
جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1812
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ أَدْلَجَ بِهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ السَّحَرِ، ثُمَّ نَزَلَ بِهِمْ سَحَرًا فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، احْرُسْ لَنَا الصَّلَاةَ". قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَغَلَبَ بِلَالًا النَّوْمُ فَرَقَدَ، فَنَامُوا حَتَّى أَوْجَعَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَيَمَّمَ، فَقَالَ لِبِلَالٍ:" أَذِّنْ وَأَقِمْ" فَقَالَ بِلَالٌ: الْآنَ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، فَصَلُّوا بَعْدَمَا أَضْحَوْا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو آپ رات بھر سفر کرتے رہے سحری سے کچھ پہلے آپ نے پڑاؤ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بلال ہمارے لئے نماز کے وقت کی حفاظت کرنا انہوں نے عرض کی: ٹھیک ہے یا رسول اللہ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر بھی نیند غالب آ گئی اور وہ بھی سو گئے باقی لوگ بھی سو گئے یہاں تک کہ سورج نے انہیں پریشان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے تیمم کیا آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اذان دو اور تم اقامت کہو سیدنا بلال نے دریافت کیا: کیا اس وقت؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! تو ان لوگوں نے دن چڑھ جانے کے بعد نماز ادا کی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس کے تمام رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1812]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1813
وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا، فَأَتَاهُ قَوْمٌ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَهَوْنَا عَنِ الصَّلَاةِ فَلَمْ نُصَلِّ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَوَضَّئُوا وَصَلُّوا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِالسَّهْوِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ مَضْجَعَهُ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أُعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ فُلَانٍ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نماز کے حوالے سے غافل رہ گئے یہاں تک کہ ہم نے اسے ادا نہیں کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ وضو کر کے نماز ادا کر لو پھر آپ نے ارشاد فرمایا: یہ سہو نہیں ہے یہ شیطان کی طرف سے ہے، جب کوئی شخص بستر پر جائے تو وہ یہ پڑھ لے۔ ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں مردود شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں یہ مذکور ہے، اسے سہل بن فلاں فزاری نے اپنے والد سے نقل کیا ہے، اور وہ راوی مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1813]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1814
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى آذَاهُ حَرُّ الشَّمْسِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مَكَثُوا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ، [ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمْ ] قَالَ:" إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلْيَفْعَلْ هَكَذَا، فَإِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے (ہم لوگ سو گئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ دونوں کندھوں کے درمیان سورج کی تپش نے آپ کو اذیت پہنچائی جب آپ بیدار ہوئے تو لوگ رُک گئے آپ نے تکبیر کہی اور آگے بڑھے پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص سویا ہو اور اس کی آنکھیں اس پر غالب آ جائیں تو وہ اس طرح کر لے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر جان کو اس کے مخصوص وقت پر وفات دے دیتا ہے، اور اس کو بھی جو نیند کے دوران مرتا نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1814]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الصَّلَاةَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ، مَا كَفَّارَتُهَا؟ قَالَ:" إِذَا ذَكَرَهَا فَلْيُصَلِّهَا وَلْيُحْسِنْ صَلَاتَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ فَلْيُحْسِنْ وُضَوْءَهُ، فَذَلِكَ كَفَّارَتُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ.
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں ایسے شخص کے بارے میں حکم بیان کیجئے جو نماز بھول جاتا ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے یا غروب ہو جاتا ہے، تو اس کا کفارہ کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب وہ اسے یاد آئے تو وہ اسے ادا کر لے اور اچھی طرح سے نماز ادا کرے اور وضو کرتے ہوئے اچھی طرح سے وضو کرے یہ اس کا کفارہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني باب الفاء، باب الميم ميمونة بنت سعد خادمة النبى صلى الله عليه وسلم 20970»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1816
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ مَعَنَا لَيْلَةَ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ حَادِيَانِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے وقت سوئے رہ گئے تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله، طرق حديث عبد الله بن مسعود ليلة الجن مع رسول الله باب 10356 المعجم الاوسط للطبراني باب العين، باب من اسمه محمود 7984 السنن الكبرى للنسائى كتاب عمل اليوم والليلة، الحدو فى السفر 9987»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں