مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا .
جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
حدیث نمبر: 1814
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى آذَاهُ حَرُّ الشَّمْسِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مَكَثُوا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ، [ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمْ ] قَالَ:" إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلْيَفْعَلْ هَكَذَا، فَإِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے (ہم لوگ سو گئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ دونوں کندھوں کے درمیان سورج کی تپش نے آپ کو اذیت پہنچائی جب آپ بیدار ہوئے تو لوگ رُک گئے آپ نے تکبیر کہی اور آگے بڑھے پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص سویا ہو اور اس کی آنکھیں اس پر غالب آ جائیں تو وہ اس طرح کر لے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر جان کو اس کے مخصوص وقت پر وفات دے دیتا ہے، اور اس کو بھی جو نیند کے دوران مرتا نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 1814]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 1814]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 1814 in Urdu