🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

21. بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا .
جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا. قَالَ:" إِنَّكَ تَنَامُ"، ثُمَّ أَعَادَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟" قُلْتُ: أَنَا. قَالَ:" إِنَّكَ تَنَامُ"، ثُمَّ عَادَ" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا. قَالَ:" إِنَّكَ تَنَامُ" حَتَّى عَادَ مِرَارًا. قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ:" فَأَنْتَ إِذًا". قَالَ: فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّكَ تَنَامُ، فَنِمْتُ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" لَوْ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ". قَالَ: ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ، فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا فَجَاءُوا بِإِبِلِهِمْ إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خُذْهَا هُنَا" فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدِ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ. قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوٍ عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ. قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَتْحُ.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمْ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم لوگ غزوہ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرا دے گا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سو جاؤ گے پھر آپ نے دوبارہ دریافت کیا: آج کون ہمارا پہرا دے گا میں نے عرض کی: میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سو جاؤ گے پھر آپ نے دوبارہ دریافت کیا: آج رات کون ہمارا پہرا دے گا میں نے عرض کی: میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سو جاؤ گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی میں نے یہی عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایسا کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم ایسا کر لو راوی کہتے ہیں: میں ان لوگوں کی خاطر جاگتا رہا یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مجھے (نیند) آ گئی اور یہ کہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ تم سو جاؤ گے، تو میں سو گیا یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ پہلے وضو کرتے تھے، اور فجر کی دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ تم اس نماز کے حوالے سے نہ سوئے رہتے تو تم نے نہیں سوئے رہنا تھا لیکن اس نے یہ ارادہ کیا کہ یہ حکم تمہارے بعد والوں کے لئے ثابت ہو جائے تو جو شخص سو جائے یا بھول جائے اس کے لئے اسی طرح حکم ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی اور لوگوں کے اونٹ ادھر ادھر بکھر گئے لوگ ان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے وہ اپنے اونٹ لے آئے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی نہیں آئی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم اسے وہاں سے پکڑ کے لے آؤ میں نے اسے وہاں سے پکڑ لیا جہاں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا تھا میں نے اسے پایا کہ اس اونٹنی کی لگام ایک درخت میں اٹکی ہوئی تھی، جسے صرف ہاتھ کے ذریعے چھڑایا جا سکتا تھا راوی بیان کرتے ہیں: میں اس اونٹنی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے اس کی لگام کو پایا کہ وہ ایک درخت میں اٹکی ہوئی تھی، جسے صرف ہاتھ کے ذریعے چھڑایا جا سکتا تھا راوی بیان کرتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت فتح نازل ہوئی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں کہ ان صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت منقول ہے، جو ابوداؤد نے نقل کی ہے، اور وہ اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ المسعودی ہے، جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند عبدالله بن مسعود رضي الله تعالى عنه 3604 المسند للشاشي مسند عبد الله بن مسعود رضى الله عنه، عبد الرحمن بن ابي علقمه 777»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1793
وَلِابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا عِنْدَ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. فَذَكَرَ أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ - يَعْنِي الدَّهَاسَ الرَّمْلَ - فَقَالَ:" مَنْ يَكْلَأُنَا؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَلَيْسَ فِيهِ الْمَسْعُودِيُّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی امام أحمد اور امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے: وہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے پھر انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ ان لوگوں نے ایک ریتلی زمین پر پڑاؤ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہمارا پہرا دے گا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔
اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ اس کی سند میں مسعودی نامی راوی نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن مسعود رضى الله تعالى عنه 4274، البحر الزخار مسند البزار عبد الرحمن بن ابي علقمة الثقفي، 1786، مصنف ابن ابي شيبة كتاب الصلاة، الرجل ينسى الصلاة او ينام عنها 4672، السنن الكبرى للنسائي كتاب السير، نزول الدباس من الأرض بالليل 8583»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1794
وَعَنْ ذِي مُخْبِرٍ - وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَأَسْرَعَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَامَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ:" هَلْ لَكَمَ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً - أَوْ قَالَ قَائِلٌ: فَنَزَلَ وَنَزَلُوا - فَقَالَ:" مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ؟" فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ:" هَاكَ، لَا تَكُونَنَّ لُكَعَ". قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِطَامِ نَاقَتِي، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُمَا تَرْعَيَانِ، فَإِنِّي كَذَلِكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا أَخَذَنِي النَّوْمُ، فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي، فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ، فَقُلْتُ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قَالَ: لَا. فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، هَلْ فِي الْمِيضَأَةِ مَاءٌ؟" - يَعْنِي الْإِدَاوَةَ - قَالَ: نَعَمْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَمْ يَلِتَّ مِنْهُ التُّرَابُ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفَرَّطْنَا؟ قَالَ:" لَا، قَبَضَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا، وَقَدْ صَلَّيْنَا".
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا ذومخبر رضی اللہ عنہ جو حبشہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپسی کے سفر میں تیزی سے چلتے ہوئے آ رہے تھے آپ ایسا اس لئے کرتے تھے کیونکہ زاد سفر کم ہو چکا ہوتا تھا ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے اللہ کے نبی لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے آپ کے ساتھ والے لوگ بھی رک گئے یہاں تک کہ باقی لوگ آپ سے آ ملے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم تھوڑی دیر آرام کر لیں یا کوئی قیلولہ کرنے والا شخص قیلولہ کر لے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج رات کون ہماری پہرہ اداری کرے گا میں نے عرض کی: میں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی لگام مجھے دی اور فرمایا یہ لو اور تم بچے نہ بن جانا (یعنی سو نہ جانا) راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی اور اپنی اونٹنی کی لگام پکڑی اور ذرا دور ہہٹ کے بیٹھ گیا میں نے ان دونوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اسی دوران مجھے بھی نیند آ گئی اور مجھے کسی چیز کا پتہ نہیں چلا یہاں تک کہ مجھے اپنے چہرے پر دھوپ کی تپش محسوس ہوئی میں بیدار ہو گیا میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے دونوں اونٹنیاں نظر آئیں جو زیادہ دور نہیں تھیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور اپنی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور میں اس فرد کے پاس آیا جو میرے سب سے زیادہ قریب تھا میں نے اسے بیدار کیا میں نے دریافت کیا: کیا تم لوگوں نے نماز ادا کی ہے، اس نے جواب دیا: جی نہیں پھر لوگ ایک دوسرے کو بیدار کرنے لگے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے بلال کیا مشکیزے میں پانی ہے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں! اللہ تعالٰی مجھے آپ پر فدا کرے پھر وہ وضو کا پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس سے مٹی بھی پوری طرح گیلی نہیں ہوئی پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے صبح کی نماز سے پہلے دو رکعاتیں ادا کیں اور وہ جلدی میں ادا نہیں کیں پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جو جلدی ادا نہیں کی ایک صاحب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا ہم نے تفریط کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو قبض کر لیا تھا جب اس نے وہ ارواح ہماری طرف لوٹا دیں تو ہم نے نماز ادا کر لی۔ مصنف فرماتے ہیں: امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1794]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1795
وَعَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَسَرَوْا مِنَ اللَّيْلِ مَا سَرَوْا ثُمَّ نَزَلُوا، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" يَا ذَا مِخْبَرٍ". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَأَخَذَ بِرَأْسِ نَاقَتِي فَقَالَ:" اقْعُدْ هَهُنَا، وَلَا تَكُونَنَّ لُكَاعًا اللَّيْلَةَ". فَأَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاقَةِ فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ، وَانْسَلَّتِ النَّاقَةُ فَذَهَبَتْ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" يَا ذَا مِخْبَرٍ". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ:" كُنْتَ وَاللَّهِ اللَّيْلَةَ لُكَعَ كَمَا قُلْتُ لَكَ"، فَتَنَحَّيْنَا عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ دَعَا أَنْ يَرُدَّ النَّاقَةَ فَجَاءَتْ بِهَا إِعْصَارُ رِيحٍ تَسُوقُهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ حِينَ بَزَقَ الْفَجْرُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" هَذِهِ صَلَاتُنَا بِالْأَمْسِ" ثُمَّ ائْتَنَفَ صَلَاةَ يَوْمِهِ ذَلِكَ.
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا يَسِيرًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَوَى عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ وَلَمْ أَرَ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَهُ، وَرَوَى هُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.
سیدنا ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا لوگ رات بھر سفر کرتے رہے پھر انہوں نے پڑاؤ کر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: اے ذومخبر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں سعادت مندی آپ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اونٹنی کا سر پکڑا اور فرمایا تم یہاں بیٹھے رہو اور آج رات تم بچے نہ بن جانا (یعنی سو نہ جانا) تو میں نے اونٹنی کا سر پکڑ لیا پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا اونٹنی کھسک گئی اور چلی گئی میں سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا: اے ذومخبر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، اور سعادت مندی آپ کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم گزشتہ رات تم بچے بن گئے جس طرح میں نے تم سے کہا: تھا پھر ہم لوگ اس جگہ سے ہٹ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے اونٹنی منگوائی تو ہوائیں اسے ساتھ لے کے ہانکتی ہوئی آئیں جب اگلا دن ہوا تو جیسے ہی صبح صادق ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ ہماری گزشتہ کل والی نماز ہے پھر آپ نے اس دن کی نماز دوبارہ ادا کی (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عبدالرحمن ہے داؤد بن ابوہند نے اس سے روایت نقل کی ہے: میں نے اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اور اس شخص نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے احادیث روایت کی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1795]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1796
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ: مَادَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَدَعَمْتُهُ بِيَدِي فَاسْتَيْقَظَ. قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَدَعَمْتُهُ فَاسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: أَبُو قَتَادَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنَا مُنْذُ اللَّيْلَةَ" ثُمَّ قَالَ:" لَا أَرَانَا إِلَّا قَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ، نَحِّ بِنَا عَنِ الطَّرِيقِ". فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاحِلَتَهُ، فَتَوَسَّدَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ. قَالَ: وَذَكَرَ صَوْتَ الصُّرَدِ. قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا ; فَاتَتْنَا الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَمْ تَهْلَكُوا، وَلَمْ تَفُتْكُمُ الصَّلَاةُ، وَإِنَّمَا تَفُوتُ الْيَقِظَانَ وَلَا تَفُوتُ النَّائِمَ، هَلْ مِنْ مَاءٍ؟" قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِسَطِيحَةٍ - أَوْ قَالَ: مِيضَأَةٍ - فِيهَا مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيَّ وَفِيهَا بَقِيَّةٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ:" احْتَفِظَ بِهَا ; فَإِنَّهُ كَائِنٌ لَهَا نَبَأٌ" وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنْ كَانَ النَّاسُ أَطَاعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَدْ رَفُقُوا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَصَابُوا، وَإِنْ كَانُوا خَالَفُوهُمَا فَقَدْ خَرَقُوا بِأَنْفُسِهِمْ" وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ حِينَ فَقَدُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَا لِلنَّاسِ: أَقِيمُوا بِالْمَاءِ حَتَّى تُصْبِحُوا، فَأَبَوْا عَلَيْهِمَا، وَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخَرِ النَّهَارِ وَقَدْ كَادُوا أَنْ يَهْلِكُوا عَطَشًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا، فَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَوْقَ الْقَدَحِ وَدُونَ الْقَعْبِ فَتَأَبَّطَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَعَلَ يَصُبُّ فِي الْإِنَاءِ وَيَشْرَبُ الْقَوْمُ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ، ثُمَّ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هَلْ مِنْ غَالٍّ؟" ثُمَّ رَدَّ الْمِيضَأَةَ وَفِيهَا نَحْوُ مَا كَانَ فِيهَا، فَسَأَلْنَاهُ: كَمْ كُنْتُمْ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثَمَانِينَ رَجُلًا، وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ایک طرف ڈھلکنے لگے (یعنی آپ سو گئے) میں نے آپ کو پکڑ لیا آپ بیدار ہو گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم چلتے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنی سواری سے ایک طرف جھکنے لگے، تو میں نے آپ کو پکڑ لیا آپ بیدار ہو گئے آپ نے فرمایا: ابوقتادہ ہو میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے آج رات ہماری حفاظت کی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میرا یہ خیال ہے کہ ہم تمہیں مشقت کا شکار کر رہے ہیں تم ہمارے ساتھ عام راستے سے ہٹ جاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی ٹانگ کو تکیہ بنایا (اور ہم سب سو گئے) ہم لوگ بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے صرد کی آواز کا ذکر کیا راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ہماری نماز رہ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ہلاکت کا شکار نہیں ہوئے اور تمہاری نماز نہیں رہ گئی نماز بیدار ہونے والے کی رہتی ہے سونے والے کی نماز نہیں رہتی ہے کیا پانی ہے راوی کہتے ہیں: میں ایک برتن لے کر آپ کے پاس آیا جس میں پانی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر وہ برتن میری طرف بڑھا دیا اس میں باقی بچا ہوا پانی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کا دھیان رکھنا اس کے حوالے سے عنقریب ایک بات سامنے آئے گی پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر آپ نے دور کعاتیں ادا کیں پھر آپ اپنی اس جگہ سے منتقل ہو گئے پھر آپ نے انہیں حکم دیا سیدنا بلال نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر کی اطاعت کریں گے، تو وہ اپنے لئے نرمی کریں گے اور ٹھیک رہیں گے اور اگر لوگ ان دونوں کی مخالفت کریں گے، تو اپنی ذات کو نقصان پہنچائیں گے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تو لوگوں سے دریافت کیا: تم لوگ پانی کے پاس ٹھہرے رہو جب تک صبح نہیں ہو جاتی لوگوں نے ان دونوں کی بات نہیں مانی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس دن کے آخری حصے میں پہنچے یہاں تک کہ وہ لوگ پیاس کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہونے کے قریب تھے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن منگوایا جو پیالے سے ذرا بڑا تھا اور بڑے پیالے سے کم تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں سے پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں نے پانی پینا شروع کیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکار کر کہا: کیا کوئی لینے والا ہے، پھر آپ نے برتن واپس کیا تو اس میں اتنا ہی پانی موجود تھا جتنا پہلے تھا راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے صحابی سے دریافت کیا: آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سمیت ہم لوگ اسی افراد تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ افراد تھے۔ مصنف فرماتے ہیں: ”صحیح“ میں یہ روایت اختصار کے ساتھ منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث: «مسند أحمد بن حنبل مسند الانصار، حديث أبى قتادة الانصاري 22000»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1797
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ. قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا - يَعْنِي لِلرُّخْصَةِ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي بِهِ الدُّنْيَا، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، فَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر کر رہے تھے آپ نے رات کے وقت پڑاؤ کیا (سب لوگ سو گئے) اور دھوپ کی وجہ سے بیدار ہوئے راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: دنیا اور اس میں موجود کوئی بھی چیز مجھے اتنا خوش نہیں کرتی راوی بیان کرتے ہیں: ان کی مراد یہ تھی کہ رخصت کے حوالے سے ایسا ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس کے عوض میں دنیا مجھے خوش نہیں کرے گی۔ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد نے اسے یزید بن ابوزیاد کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے طیب بن سلمہ کے حوالے سے مسروق کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1797]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1798
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ - أَحْسَبُهُ مَرْفُوعًا - قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَبِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَقَالَ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا.
بشر بن حرب نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے اسے ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”جو شخص نماز بھول جائے تو وہ اس کو اس وقت ادا کر لے جب وہ اسے یاد آئے یا اگلے دن اس نماز کے وقت میں ادا کرے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بشر بن حرب نامی راوی کو علی بن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن عدی نے اسے ”ثقہ“ کہا: ہے وہ فرماتے ہیں: میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1798]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1799
عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
امام أحمد نے اپنی سند کے ساتھ بشر بن حرب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1799]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1800
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا نَامَ أَحَدُنَا عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا حَتَّى ذَهَبَ حِينُهَا الَّذِي تُصَلَّى فِيهِ - أَنْ يُصَلِّيَهَا مَعَ الَّتِي تَلِيهَا مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے یہاں تک کہ اس نماز کا وہ وقت رخصت ہو جائے جس میں وہ نماز ادا کی جاتی ہے، تو آدمی اس نماز کو اس کے بعد والی فرض نماز کے ہمراہ ادا کر لے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1800]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1801
وَعَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا مِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے تو وہ اسے اس وقت ادا کرے جب وہ اسے یاد آ جائے اور اگلے دن اس نماز کے وقت میں اسے ادا کرے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل اول مسند البصريين، ومن حديث سمرة بن جندب حديث 19801، المعجم الكبير للطبراني من اسمه سمرة، ما اسند سمرة بن جندب ابو مجلز لاحق بن حميد عن سمرة بن جندب، 6820»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں