مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ وَغَيْرِهِ .
جامع مسجد، یا دوسری مسجد میں نماز ادا کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 2185
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ تَعْدِلُ الْفَرِيضَةَ - يَعْنِي: حَجَّةً مَبْرُورَةً - وَالنَّافِلَةُ كَحَجَّةٍ مُتَقَبَّلَةٍ، وَفُضِّلَتِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ عَلَى مَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ بِخَمْسِمِائَةِ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نُوحُ بْنُ ذَكْوَانَ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نُوحُ بْنُ ذَكْوَانَ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جامع مسجد میں نماز ادا کرنا فرض کے برابر ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ”مبرور حج“ تھا اور (جامع مسجد میں) نفل ادا کرنا مقبول حج کی مانند ہے جامع مسجد میں نماز کو دیگر مساجد میں نماز ادا کرنے پر پانچ سو گنہ فضیلت دی گئی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ذکوان ہے، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2185]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ذکوان ہے، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2185]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف