مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. بَابٌ فِيمَنْ تَحْصُلُ بِهِمْ فَضِيلَةُ الْجَمَاعَةِ .
ان افراد (کی تعداد) کا بیان، جن کے ذریعے جماعت کی فضیلت حاصل ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 2178
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو یا، اس سے زیادہ افراد جماعت شمار ہوتے ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2178]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2178]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2179
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَلَهُ طُرُقٌ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَلَهُ طُرُقٌ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: کیا کوئی شخص اس کو صدقہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا، تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے اس دوسرے شخص کے ساتھ نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دو افراد جماعت ہیں۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس روایت کے کئی طرق ہیں جو سب ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2179]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس روایت کے کئی طرق ہیں جو سب ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2179]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2180
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ قَالَ: فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا حَبَسَكَ يَا فُلَانُ عَنِ الصَّلَاةِ؟" قَالَ: فَذَكَرَ شَيْئًا اعْتَلَّ بِهِ قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ؟"، فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ظہر کی نماز پڑھا دی راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص (مسجد کے) اندر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اے فلاں! اتم نماز میں کیوں شریک نہیں ہو پائے؟ اس شخص نے کوئی معاملہ ذکر کیا جس کے ذریعے اس نے اپنا عذر بیان کیا راوی کہتے ہیں: وہ شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کوئی شخص اس کو صدقہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس شخص کے ساتھ نماز ادا کی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2180]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند ابي سعيد الخدري رضى الله عنه 11608»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2181
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ؟" قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْوَلِيدُ لَيْسَ بِصَحَابِيٍّ، وَالْحَدِيثُ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْوَلِيدُ لَيْسَ بِصَحَابِيٍّ، وَالْحَدِيثُ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.
ولید بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز ادا کرنا شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص اس کو صدقہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس شخص کے ساتھ نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دو افراد جماعت ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ولید نامی راوی صحابی نہیں ہے، اور یہ حدیث سند کے اعتبار سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2181]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ولید نامی راوی صحابی نہیں ہے، اور یہ حدیث سند کے اعتبار سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2181]
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 2182
وَعَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَلَّى فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو جَابِرٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَدْرَكْتُهُ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو جَابِرٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَدْرَكْتُهُ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد میں داخل ہوا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کوئی شخص اس کو صدقہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ابوجابر ہے ابوحاتم کہتے ہیں۔ میں نے اس کا زمانہ پایا ہے وہ حدیث میں قومی نہیں ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2182]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2182]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 2183
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَلَّى الظُّهْرَ وَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ فَصَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ؟".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَلَا يَصِحُّ عَنْ عِصْمَةَ حَدِيثٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَلَا يَصِحُّ عَنْ عِصْمَةَ حَدِيثٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کر کے مسجد میں تشریف فرما تھے اسی دوران ایک شخص آیا مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کرنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کوئی شخص اس کو صدقہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند ”ضعیف“ ہے سیدنا عصمہ کے حوالے سے کوئی حدیث مستند طور پر حقول نہیں ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2183]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند ”ضعیف“ ہے سیدنا عصمہ کے حوالے سے کوئی حدیث مستند طور پر حقول نہیں ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2183]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2184
وَعَنْ ثَابِتٍ - لَعَلَّهُ عَنْ أَنَسٍ - أَنَّ رَجُلًا جَاءَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ؟".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فَإِنْ كَانَ ابْنُ زُبَالَةَ فَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فَإِنْ كَانَ ابْنُ زُبَالَةَ فَهُوَ ضَعِيفٌ.
ثابت نے شاید سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: ایک شخص آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر چکے تھے وہ شخص کھڑا ہو کر اکیلا نماز ادا کرنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون شخص اس کے ساتھ تجارت کرے گا، اور اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن ہے اگر تو یہ ابن زبالہ ہے، تو پھر یہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2184]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن ہے اگر تو یہ ابن زبالہ ہے، تو پھر یہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2184]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف