🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

103. بَابٌ .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2270
عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
قاضی شریح کے بارے میں بات منقول ہے: انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز ادا کر لیتے تھے؟ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ بات سنی ہے ”اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے حصیر بنایا ہے (اور عربی میں چٹائی کے لئے لفظ حصیر استعمال ہوتا ہے) تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز ادا نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2270]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2271
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى لَا يَضَعُ تَحْتَ قَدَمَيْهِ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّا مُطِرْنَا يَوْمًا فَوَضَعَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ نِطْعًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو آپ اپنے پاؤں کے نیچے کچھ نہیں رکھتے تھے البتہ ایک مرتبہ بارش ہو گئی، تو آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ضبی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2271]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يُصَلِّي أَوْ لَا يَسْجُدُ إِلَّا عَلَى الْأَرْضِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صرف زمین پر نماز ادا کرتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) صرف زمین پر سجدہ کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2272]

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2273
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ عَلَى الْبَرَدَى وَيَسْجُدُ عَلَى الْأَرْضِ، قُلْنَا: وَمَا الْبَرَدَى؟ قَالَ: الْحَصِيرُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
ابراہیم نخعی کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ ”بردی“ پر کھڑے ہوئے تھے، اور زمین پر سجدہ کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے دریافت کیا: لفظ بردی سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا: چٹائی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2273]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں