مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
103. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 2270
عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
قاضی شریح کے بارے میں بات منقول ہے: انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز ادا کر لیتے تھے؟ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ بات سنی ہے ”اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے حصیر بنایا ہے (اور عربی میں چٹائی کے لئے لفظ حصیر استعمال ہوتا ہے) تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز ادا نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2270]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2270]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
Majma al-Zawa'id Hadith 2270 in Urdu