🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

142. بَابٌ فِي الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ وَالْإِشَارَةِ .
نماز کے دوران کلام کرنا یا اشارہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2435
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَرَدَّ النَّبِيُّ إِشَارَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّا كُنَّا نَرُدُّ السَّلَامَ فِي صَلَاتِنَا فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ فَقَالَ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: پہلے ہم نماز کے دوران سلام کا جواب دے دیتے تھے پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جو لیث کا کاتب ہے، اسے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں: یہ ”ثقہ“ اور مامون ہے، جب کہ ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2435]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں موجود راوی عبد اللہ بن صالح کاتب اللیث جمہور ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2436
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَهُمْ يُصَلُّونَ سَأَلَ الَّذِي إِلَى جَنْبِهِ فَيُخْبِرُهُ بِمَا فَاتَهُ فَيَقْضِي ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي مَعَهُمْ حَتَّى أَتَى مُعَاذٌ يَوْمًا فَأَشَارُوا إِلَيْهِ إِنَّكَ قَدْ فَاتَكَ كَذَا وَكَذَا فَأَبَى أَنْ يُصَلِّيَ، فَصَلَّى مَعَهُمْ ثُمَّ صَلَّى بَعْدُ مَا فَاتَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَحْسَنَ مُعَاذٌ وَأَنْتُمْ فَافْعَلُوا كَمَا فَعَلَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے لوگوں کا یہ معمول ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتا اور لوگوں کو نماز ادا کرتے ہوئے پاتا تو اپنے پہلو میں موجود شخص سے کچھ دریافت کر لیتا تھا اور دوسرا شخص اسے بتا دیا تھا کہ کتنی نماز گزر چکی ہے، تو وہ اس حساب سے قضا کر لیتا تھا پھر وہ اٹھ کر ان لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لیتا تھا ایک دن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے لوگوں نے انہیں اشارہ کر کے بتایا: آپ کی اتنی اتنی نماز فوت ہو چکی ہے، تو انہوں نے نماز پڑھنے سے انکار کر دیا انہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی پھر جو نماز پہلے گزر چکی تھی وہ بعد میں ادا کر لی اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معاذ نے اچھا کیا ہے تم لوگ بھی ویسا ہی کیا کرو جس طرح اس نے کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے، اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں راوی ”ضعیف“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2436]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2437
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا فَبَنَى عَلَى مَا صَلَّى.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يَأْتِي أَحْيَانًا بِالْمَنَاكِيرِ قَالَ الذَّهَبِيُّ: هُوَ مِنَ الْعِبَادِ صَدُوقٌ فِي نَفْسِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران بھول کر کلام کر لیا تو آپ نے جو نماز پہلے ادا کر لی تھی، اس پر بناء قائم کی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن مہدی ہے ابوحاتم کہتے ہیں: یہ بعض اوقات منکر روایات نقل کرتا ہے ذہبی فرماتے ہیں: یہ نیک لوگوں میں سے ایک ہے، اور یہ اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2437]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2438
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ.
قُلْتُ: لِعَمَّارٍ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: أَنَّهُ سَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَيَكُونُ هَذَا نَاسِخًا لِذَاكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا تھا تو یہ روایت اس روایت کی ناسخ شمار ہو گی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2438]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2439
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ.
قُلْتُ: لِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے کے ساتھ جواب دیا: (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ”صحیح“ میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب نہیں دیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2439]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں