مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. بَابٌ فِي الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ وَالْإِشَارَةِ .
نماز کے دوران کلام کرنا یا اشارہ کرنا
حدیث نمبر: 2439
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ.
قُلْتُ: لِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: لِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے کے ساتھ جواب دیا: (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ”صحیح“ میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب نہیں دیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2439]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2439]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
Majma al-Zawa'id Hadith 2439 in Urdu