مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. بَابٌ فِي الصَّفِّ لِلصَّلَاةِ .
نماز کے لئے صف بنانا
حدیث نمبر: 2491
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نماز کی تکمیل میں صف قائم کرنا بھی شامل ہے“۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2491]
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2491]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2492
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَحْسِنُوا إِقَامَةَ الصُّفُوفِ فِي الصَّلَاةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نماز میں صفیں اچھے طریقے سے قائم کرو“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2492]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2492]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2493
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي لَأَنْظُرُ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھ لیتا ہوں جس طرح میں اپنے سامنے کی طرف دیکھتا ہوں، اور تم اپنی صفوں کو درست رکھو اور رکوع و سجود اچھے طریقے سے کرو“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2493]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2493]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ حَتَّى تَكَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے اپنے (یعنی صحابہ کرام کے) بارے میں یہ بات یاد ہے کہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں) نماز اس وقت تک شروع نہیں ہوتی تھی جب تک صفیں درست نہیں ہو جاتی تھیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالي عنه 3861»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2495
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:" لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ الْوُجُوهُ وَلَتُغْمَضَنَّ أَبْصَارُكُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُكُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”یا تو تم صفیں درست کرو گے یا پھر چہرے بجھ جائیں گے یا تو تم اپنی نگاہیں نیچے رکھو گے یا پھر تمہاری بینائی اچک لی جائے گی“۔
یہ روایت امام أحمد نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے، اسے عبداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں راوی ”ضعیف“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2495]
یہ روایت امام أحمد نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے، اسے عبداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں راوی ”ضعیف“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2495]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف