مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
162. بَابٌ مِنْهُ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 2496
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" فُضِّلْتُ بِأَرْبَعِ خِصَالٍ: جُعِلْتُ أَنَا وَأُمَّتِي فِي الصَّلَاةِ كَمَا تَصِفُّ الْمَلَائِكَةُ، وَجُعِلَ الصَّعِيدُ لِي وَضُوءًا، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے چار چیزوں کے حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے مجھے اور میری امت کو نماز میں اس طرح مقرر کیا گیا ہے، جس طرح فرشتے صف بناتے ہیں میرے لئے زمین کو وضو کا ذریعہ بنایا گیا ہے میرے لئے زمین کو جائے نماز بنایا گیا ہے، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2496]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2496]
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع۔
حدیث نمبر: 2497
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" صَفُّوا كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالَ:" يُقِيمُونَ الصُّفُوفَ وَيَجْمَعُونَ مَنَاكِبَهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ اس طرح صف بناؤ جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں صف بناتے ہیں لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیسے صف بناتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ صف سیدھی رکھتے ہیں، اور کندھے ملا کے رکھتے ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں، اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2497]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں، اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2497]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2498
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَوِّي مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (شروع ہونے سے پہلے) ہمارے کندھے برابر کرواتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند متصل ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2498]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند متصل ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2498]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2499
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اسْتَوُوا تَسْتَوِي قُلُوبُكُمْ وَتَمَاسُّوا تَرَاحَمُوا".
قَالَ شُرَيْحٌ: تَمَاسُّوا يَعْنِي: ازْدَحِمُوا فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ غَيْرُهُ: تَمَاسُّوا: تَوَاصَلُوا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قَالَ شُرَيْحٌ: تَمَاسُّوا يَعْنِي: ازْدَحِمُوا فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ غَيْرُهُ: تَمَاسُّوا: تَوَاصَلُوا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ سیدھے رہو تمہارے دل سیدھے رہیں گے تم لوگ ایک دوسرے سے مل کے رہو اور ایک دوسرے پر رحم کرو“۔ قاضی شریح بیان کرتے ہیں: لفظ ”تماسوا“ سے مراد یہ ہے کہ نماز کے دوران ہجوم کرو دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے: لفظ ”تماسوا“ کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے سے مل کے رہو!
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2499]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2499]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2500
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَتَخَلَّلُهَا كَالْحَذَفِ أَوْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ شیطان ان کے درمیان یوں آ جاتا ہے جیسے وہ چھوٹی (یعنی ٹیڈی) بکری ہو یا چھوٹی بکری کی اولاد ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ”موقوف“ روایت کے طور پر نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2500]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ”موقوف“ روایت کے طور پر نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله، عبد الله بن مسعود الهذلي باب 9229»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح (موقوفاً)