مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
176. بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ .
جو شخص صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز ادا کرے
حدیث نمبر: 2541
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو اسے یہ حکم دیا کہ وہ نماز کو دہرائے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2541]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2541]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2542
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ فَقَالَ:" أَعِدِ الصَّلَاةَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے صفوں کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا: تم نماز کو دہراؤ!
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن قاسم ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2542]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن قاسم ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2542]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف