مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. بَابٌ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ .
مسواک کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2543
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ، رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ، وَالْبَزَّارُ لِحَدِيثِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ: إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ:" عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ":" وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ هَبَطَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ: أَلَا سَائِلٌ فَيُعْطَى؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا مُسْتَشْفِعٌ فَيُشْفَعُ؟ أَلَا تَائِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ؟".
وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ وَلَكِنَّهُ فِي الْمُسْنَدِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مُعَنْعَنٌ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ، رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ، وَالْبَزَّارُ لِحَدِيثِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ: إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ:" عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ":" وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ هَبَطَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ: أَلَا سَائِلٌ فَيُعْطَى؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا مُسْتَشْفِعٌ فَيُشْفَعُ؟ أَلَا تَائِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ؟".
وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ وَلَكِنَّهُ فِي الْمُسْنَدِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مُعَنْعَنٌ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ”صحیح“ میں مذکور ہے، اس روایت کو عبداللہ نے مسند أحمد کی زیادات میں نقل کیا ہے امام بزار نے صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث روایت کی ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ”ہر نماز کے وقت“ کے الفاظ کے ہمراہ یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اور میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک مؤخر کر دیتا جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے وہ یہ فرماتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو کیا کوئی سفارش کرنے والا ہے کہ اس کی سفارش قبول ہو کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے، اور مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ اس کی مغفرت ہو جائے“۔
اس روایت کے رجال ”ثقہ“ ہیں تاہم مسند میں ابواسحاق کے حوالے سے سیدنا عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے معنعن روایت کے طور پر منقول ہے امام بزار نے اسے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں: عبدالرحن بن یسار نے عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے عبدالرحمن نامی کو یحیی بن معین ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2543]
اس روایت کے رجال ”ثقہ“ ہیں تاہم مسند میں ابواسحاق کے حوالے سے سیدنا عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے معنعن روایت کے طور پر منقول ہے امام بزار نے اسے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں: عبدالرحن بن یسار نے عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے عبدالرحمن نامی کو یحیی بن معین ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2543]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور دوسری سند میں متابعت کی موجودگی کی وجہ سے عنعنہ کا نقص ختم اور سند متصل ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2544
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2544]
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2544]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2545
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا يَتَوَضَّئُونَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا جس طرح وہ (ہر نماز کے وقت) وضو کرتے ہیں“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2545]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2545]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2546
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2546]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2546]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2547
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالسِّوَاكِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2547]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2547]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2548
وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2548]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2548]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2549
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْلَا أَنْ تَضْعُفُوا لَأَمَرْتُكُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُسْلِمِ بْنِ كَيْسَانَ الْمُلَائِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: لَا بَأْسَ بِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُسْلِمِ بْنِ كَيْسَانَ الْمُلَائِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: لَا بَأْسَ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایسا نہیں کر پاؤ گے، تو میں تمہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مسلم بن کیسان ملائی کے حوالے سے روایت کیا ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے امام بزار فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2549]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مسلم بن کیسان ملائی کے حوالے سے روایت کیا ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے امام بزار فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2549]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2550
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَسْتَاكُوا، فَقَالَ:" تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا، اسْتَاكُوا، فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُذَكِّرُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ.
وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ، قَالَ ابْنُ السَّكَنِ وَغَيْرُهُ: مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُذَكِّرُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ.
وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ، قَالَ ابْنُ السَّكَنِ وَغَيْرُهُ: مَجْهُولٌ.
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے مسواک نہیں کی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ مسواک کیے بغیر میرے پاس آ گئے ہو تم لوگ مسواک کرو اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں ان پر ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنا لازم قرار دیتا جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہے، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے بارے میں قرآن نازل ہو جائے گا“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے۔ ابن سکن اور دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے: یہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2550]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہے، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے بارے میں قرآن نازل ہو جائے گا“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے۔ ابن سکن اور دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے: یہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث: «مسند أبى يعلى الموصلي مسند العباس بن عبد المطلب رضى الله عنه، 6566 البحر الزخار مسند البزار ومما روى تمام بن العباس، 1159»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کا راوی 'أبو علی الصیقل' مجہول ہے۔
حدیث نمبر: 2551
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ: سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ: سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2551]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2551]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2552
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَأَمَرْتُ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: أَرْطَاةُ، أَبُو حَاتِمٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: أَرْطَاةُ، أَبُو حَاتِمٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ سنت ہو جائے گی تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ارطاۃ ابوحاتم ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2552]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ارطاۃ ابوحاتم ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2552]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس میں ایک راوی