مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. بَابٌ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ .
مسواک کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2553
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنَّا نَضَعُ سِوَاكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ طَهُورِهِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَدَعُ السِّوَاكَ؟! قَالَ:" أَجَلْ، لَوْ أَنِّي أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنِّي عِنْدَ كُلِّ شَفْعٍ مِنْ صَلَاتِي لَفَعَلْتُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ: السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ: السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے، طہارت کے پانی کے ہمراہ مسواک بھی رکھ دیتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مسواک کو ترک نہیں کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! اگر میرے لئے یہ ممکن ہوتا کہ میں ہر دو رکعات کے بعد مسواک کر سکتا تو میں ایسا بھی کرتا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2553]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2553]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس میں السری بن اسماعیل ہے جو کہ متروک ہے۔
حدیث نمبر: 2554
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:" فَضْلُ الصَّلَاةِ بِسِوَاكٍ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ سِوَاكٍ سَبْعِينَ صَلَاةً".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَدْ صَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَدْ صَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”مسواک کے ساتھ نماز ادا کرنے کو مسواک کے بغیر نماز ادا کرنے پر ستر درجہ فضیلت حاصل ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام حاکم رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2554]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام حاکم رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2554]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2555
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" رَكْعَتَانِ بِسِوَاكٍ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةً بِغَيْرِ سِوَاكٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”مسواک کے ساتھ دو رکعات ادا کرنا مسواک کے بغیر ستر رکعات سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2555]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2555]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2556
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ أَوْ وَحَيٌّ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اس کے بارے میں مجھ پر قرآن نازل ہو جائے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) وحی نازل ہو جائے گی“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2556]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2556]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح لوجود شاهدٍ له
حدیث نمبر: 2557
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُوحَى إِلَيَّ فِيهِ".
وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے امام أحمد نے یہ روایت نقل کی ہے: وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے بارے میں میری طرف وحی کی جائے گی“۔
اس روایت کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2557]
اس روایت کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2557]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2558
وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِلَفْظِ:" لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي".
وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.
وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ان الفاظ میں نقل کی ہے: ”مجھے مسواک کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے اپنے دانتوں کے بارے میں اندیشہ ہوا“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں بھی عطاء بن سائب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2558]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2559
وَعَنْ وَاثِلَهَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ یہ مجھ پر لازم قرار دے دی جائے گی“۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ”ثقہ“ اور تدلیس کرنے والا ہے، اس نے عنعنہ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2559]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ”ثقہ“ اور تدلیس کرنے والا ہے، اس نے عنعنہ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2559]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2560
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَقَالَ فِي بَعْضِ طُرُقِهِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَعَارَّ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا أَجْرَى السِّوَاكَ عَلَى فِيهِ وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، وَفِي بَعْضِهَا حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَغَيْرُ ذَلِكَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَقَالَ فِي بَعْضِ طُرُقِهِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَعَارَّ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا أَجْرَى السِّوَاكَ عَلَى فِيهِ وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، وَفِي بَعْضِهَا حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَغَيْرُ ذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سوتے تھے تو مسواک آپ کے پاس ہوتی تھی اور جب آپ بیدار ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے جس بھی حصے میں بیدار ہوتے تھے تو آپ مسواک کیا کرتے تھے“۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے، اس کی سند ضعیف ہے، اس کے بعض طرق میں ایسا راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا بعض طرق میں حسام بن مصک نامی راوی ہے، اور دیگر راوی بھی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2560]
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے جس بھی حصے میں بیدار ہوتے تھے تو آپ مسواک کیا کرتے تھے“۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے، اس کی سند ضعیف ہے، اس کے بعض طرق میں ایسا راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا بعض طرق میں حسام بن مصک نامی راوی ہے، اور دیگر راوی بھی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2560]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2561
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أَدْرَدَ. أَوْ حَتَّى خَشِيتُ عَلَى لَثَتِي وَأَسْنَانِي".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مجھے درد ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) یہاں تک کہ مجھے اپنے مسوڑھوں اور دانتوں کے بارے میں اندیشہ ہوا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد ہے، اور وہ ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2561]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد ہے، اور وہ ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2561]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2562
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"" أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَأَدْرَدُ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جبرائیل نے مجھے مسواک کرنے کی ہدایت کی یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے درد ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن واقد ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2562]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن واقد ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2562]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف