مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. بَابٌ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ .
مسواک کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2563
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَازَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَضْرَاسِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل مجھے مسلسل مسواک کی تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے اپنی داڑھوں کے بارے میں اندیشہ ہوا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2563]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2563]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2564
وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ أَمَرَ بِالسِّوَاكِ وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَسَوَّكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَامَ الْمَلَكُ خَلْفَهُ فَيَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ فَيَدْنُو مِنْهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا صَارَ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ، فَطَهِّرُوا أَفْوَاهَكُمْ لِلْقُرْآنِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ وَهَذَا مَرْفُوعٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ وَهَذَا مَرْفُوعٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے مسواک کرنے کا حکم دیا یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”بندہ جب مسواک کر کے نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ایک فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے، اور اس کی قرأت کو غور سے سنتا ہے وہ اس شخص کے قریب ہو جاتا ہے (یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ راوی نے نقل کیا) یہاں تک کہ وہ فرشتہ اپنا منہ اس شخص کے منہ پر رکھ دیتا ہے، تو اس شخص کے منہ سے قرآن کا جو بھی حصہ نکلتا ہے وہ فرشتے کے اندر چلا جاتا ہے، تو تم قرآن کے لئے اپنے مونہوں کو پاک و صاف رکھو“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، تاہم وہ روایت ”موقوف“ ہے، اور یہ ”مرفوع“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2564]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، تاہم وہ روایت ”موقوف“ ہے، اور یہ ”مرفوع“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2564]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2565
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمْرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسِّوَاكِ، وَقَالَ:" نِعْمَ الشَّيْءُ هُوَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز میں اپنی داڑھی کو چھو لیتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خطاب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2565]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خطاب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2565]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2566
وَعَنْ مَلِيحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمَيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ، وَالْحِلْمُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالسِّوَاكُ، وَالتَّعَطُّرُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَمَلِيحٌ وَأَبَوْهُ وَجَدُّهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَمَلِيحٌ وَأَبَوْهُ وَجَدُّهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمُ.
ملیح بن عبداللہ خطمی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پانچ چیزیں رسولوں کی سنت ہیں حیاء بردباری پچھنے لگوانا مسواک کرنا اور عطر لگانا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ملیح، اس کے والد اور اس کے دادا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2566]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ملیح، اس کے والد اور اس کے دادا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2566]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2567
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَزِمْتُ السِّوَاكَ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَدْرِدَنِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَحِيحٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَحِيحٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے مسواک کو لازم پکڑا یہاں تک کہ یہ اندیشہ ہوا کہ میرے دانت ختم ہو جائیں گے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2567]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2567]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2568
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَنَامُ لَيْلَةً وَلَا يَنْتَبِهُ إِلَّا اسْتَنَّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ فِعْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ فِعْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب سونے لگتے تھے یا جب بھی رات کو بیدار ہوتے تھے تو مسواک کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فعل کے طور پر نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے، اور وہ ضعیف ہے، اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2568]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فعل کے طور پر نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے، اور وہ ضعیف ہے، اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2568]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2569
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ حَتَّى يَسْتَاكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز وغیرہ کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکلنے سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2569]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2569]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2570
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مِرَارًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کئی مرتبہ مسواک کر لیتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2570]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2570]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2571
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رُبَّمَا اسْتَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات میں چار مرتبہ مسواک کر لیتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2571]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2571]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً۔
حدیث نمبر: 2572
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ - وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِهَا - فَذَكَرَ: أَنَّ سِوَاكًا كَانَ لَا يَزَالُ فِي إِنَاءٍ، فَإِنْ شَغَلَهَا عَمَلٌ أَوْ صَلَاةٌ وَإِلَّا أَخَذَتِ السِّوَاكَ فَاسْتَاكَتْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ فِي الطَّهَارَةِ، وَيَأْتِي غَيْرُهَا فِي الزِّينَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ فِي الطَّهَارَةِ، وَيَأْتِي غَيْرُهَا فِي الزِّينَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
یزید بن اصم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: یزید اُن کے ہاں یتیم کے طور پر زیر پرورش رہے تھے انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک مسواک ہر وقت برتن میں موجود رہتی تھی اگر وہ کسی کام میں مصروف ہونے لگتی تھیں، یا نماز ادا کرنے لگتی تھیں، تو وہ مسواک لے کر مسواک کر لیتی تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: مسواک کے بارے میں بہت سی احادیث طہارت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں دیگر احادیث زینت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2572]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: مسواک کے بارے میں بہت سی احادیث طہارت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں دیگر احادیث زینت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2572]
الحكم على الحديث: إسناده حسن