مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
179. بَابٌ السِّوَاكِ لِمَنْ لَيْسَتْ لَهُ أَسْنَانٌ .
جس شخص کے دانت نہ ہوں اس کا مسواک کرنا
حدیث نمبر: 2574
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَذْهَبُ فُوهُ، يَسْتَاكُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قُلْتُ: كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ:" يُدْخِلُ أُصْبُعَهُ فِي فِيهِ فَيُدَلِّكُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص جس کا منہ رخصت ہو گیا ہو (یعنی دانت ختم ہو چکے ہوں) کیا وہ مسواک کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: وہ کیسے کرے گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: وہ اپنی انگلی اپنے منہ میں داخل کرے گا، اور اسے مل لے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبداللہ انصاری ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2574]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبداللہ انصاری ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2574]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف