مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
180. بَابٌ بِأَيِّ شَيْءٍ يَسْتَاكُ؟ .
(آدمی) کون سی چیز کے ذریعے مسواک کرے گا؟
حدیث نمبر: 2575
عَنْ أَبِي خَيْرَةَ الصُّبَاحِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّدَنَا الْأَرَاكَ نَسْتَاكُ بِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَنَا الْجَرِيدُ، وَلَكُنَّا نَقْبَلُ كَرَامَتَكَ وَعَطِيَّتَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ إِذْ قَعَدَ قَوْمٌ لَمْ يُسْلِمُوا إِلَّا خَزَايَا مَوْتُورِينَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وفد میں شامل تھا جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زادراہ میں پیلو کی شاخیں دی تھیں تاکہ ہم ان کے ذریعے مسواک کریں ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے ہاں لکڑیاں ہوتی ہیں لیکن ہم آپ کی کرامت اور آپ کے عطیہ کو قبول کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! تو عبدالقیس قبیلے کے افراد کی مغفرت کر دے جب کہ یہ لوگ اپنی خوشی کے ساتھ اسلام قبول کر چکے ہیں انہوں نے زبردستی ایسا نہیں کیا ہے، جب کہ کچھ لوگ اسلام قبول نہیں کرتے صرف رسوا ہو کر اور بندش میں آ کر ہی اسلام قبول کرتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2575]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني باب الياء من اسمه يعيش من يكنى أبا خيرة ابو خيرة الصباحي، حديث 18745»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2576
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" نِعْمَ السِّوَاكُ الزَّيْتُونُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ، تُطَيِّبُ الْفَمَ، وَتُذْهِبُ بِالْحَفْرِ، وَهُوَ سِوَاكِي وَسِوَاكُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مُعَلِّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مُعَلِّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بہترین مسواک زیتون کی ہوتی ہے، جو مبارک درخت کی ہوتی ہے وہ منہ کو صاف کرتی ہے گڑھے کو ختم کرتی ہے، اور وہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مسواک ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معلل بن محمد ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2576]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معلل بن محمد ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2576]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف