مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. بَابٌ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز میں رفع یدین کرنا
حدیث نمبر: 2591
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ رَفَعَ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ أَرْسَلَهُمَا، وَرُبَّمَا رَأَيْتُهُ يَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سَكَتَ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، وَيُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ، وَكُنَّا لَا نَرْكَعُ حَتَّى نَرَاهُ رَاكِعًا، ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ رُكُوعِهِ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَكَانَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے جب آپ تکبیر کہ لیتے تھے تو انہیں چھوڑ دیتے بعض اوقات میں نے دیکھا کہ آپ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے تھے جب آپ سورہ فاتحہ سے فارغ ہوتے تھے تو کچھ دیر خاموش رہتے تھے پھر دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے، اور تکبر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے تھے ہم اس وقت تک رکوع میں نہیں جاتے تھے جب تک ہم آپ کو رکوع میں دیکھ نہیں لیتے تھے پھر آپ کوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوتے تھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی تھی پھر آپ دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ روایت آگے چل کر نماز کے طریقے سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحد رہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2591]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحد رہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2591]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 2592
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا:" إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَلَا تُخَالِفْ آذَانَكُمْ، ثُمَّ قُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَإِنْ لَمْ تَزِيدُوا عَلَى التَّكْبِيرِ أَجْزَأَتْكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے تھے: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو، تو دونوں ہاتھ بلند کرو جو تمہارے کانوں سے آگے نہ جائیں پھر یہ پڑھو: اللہ اکبر! تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:) اگر تم تکبیر کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتے تو بھی یہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2592]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2592]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، کیونکہ اس کی سند میں یحییٰ بن یعلیٰ الاسلمی ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔
حدیث نمبر: 2593
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ، وَحِينَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْحَجِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَقَدْ وُثِّقَ.
وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْحَجِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”صرف سات مواقع پر رفع یدین کیا جائے گا نماز کے آغاز میں جب آدمی مسجد حرام میں داخل ہوتا ہے“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ حدیث آگے چل کر حج سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی اگر اللہ نے چاہا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ ہے، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کے حوالے سے ضعیف ہے، اس کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2593]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ ہے، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کے حوالے سے ضعیف ہے، اس کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2593]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2594
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا".
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي مَنَاقِبِ وَائِلٍ مِنْ طَرِيقِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ حُجْرٍ، عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ يَحْيَى بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي مَنَاقِبِ وَائِلٍ مِنْ طَرِيقِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ حُجْرٍ، عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ يَحْيَى بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے وائل بن حجر! جب تم نماز ادا کرو تو اپنے ہاتھ کانوں کے مدمقابل رکھو اور عورت اپنے ہاتھ سینے کے برابر تک اٹھائے گی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے ”صحیح“ میں اور دیگر کتابوں میں رفع یدین سے متعلق حدیث منقول ہے، جو اس حدیث کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے، جو سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے، اور یہ میمونہ بنت حجر کے حوالے سے منقول ہے انہوں نے اپنی پھوپھی اُم یحیی بنت عبدالجبار کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2594]
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے، جو سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے، اور یہ میمونہ بنت حجر کے حوالے سے منقول ہے انہوں نے اپنی پھوپھی اُم یحیی بنت عبدالجبار کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2594]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں ام یحییٰ بنت عبدالجبار مجہول ہے، جبکہ بقیہ راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2595
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ، وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَالْمَوْقِفَيْنِ، وَعِنْدَ الْحَجَرِ".
وَفِيهِ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.
وَفِيهِ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سات مواقع پر رفع یدین کیا جائے گا نماز کے آغاز میں، بیت اللہ کے سامنے، آ کر صفا اور مروہ پر، دو موقف میں اور حجر کے پاس“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلیٰ ہے، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2595]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2596
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: إِنَّهُ يَكْتُبُ فِي كُلِّ إِشَارَةٍ يُشِيرُهَا الرَّجُلُ بِيَدِهِ فِي الصَّلَاةِ بِكُلِّ أُصْبُعٍ حَسَنَةً أَوْ دَرَجَةً.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہر اشارے کا ثواب نوٹ کیا جاتا ہے، جو اشارہ آدمی اپنی نماز کے دوران اپنے ہاتھ کے ذریعے کرتا ہے ہر ایک انگلی کے عوض میں ایک نیکی ملتی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک درجہ نصیب ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2596]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2596]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔