مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
253. بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ .
اس شخص کا بیان جو مسجد میں داخل ہو تو امام اس وقت خطبہ دے رہا ہو
حدیث نمبر: 3120
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَا صَلَاةَ وَلَا كَلَامَ حَتَّى يَفْرُغَ الْإِمَامُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور امام اس وقت منبر پر موجود ہو تو پھر امام کے فارغ ہونے تک نہ تو کوئی نماز ادا کی جائے گی، اور نہ ہی کلام کیا جائے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن نہیک ہے، اور وہ متروک ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غلطی کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3120]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن نہیک ہے، اور وہ متروک ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غلطی کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3120]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3121
وَعَنِ السُّلَيْكِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص آئے اور امام اس وقت خطبہ دے رہا ہو، تو اسے دو مختصر رکعت ادا کر لینی چاہئیں“۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3121]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند جابر بن عبد الله رضى الله عنه 14914، سنن الدارقطنى اول كتاب الجمعة باب فى الركعتين إذا جاء الرجل والإمام يخطب . 1401»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3122
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَلْيُخَفِّفْهُمَا".
قُلْتُ: لَيْسَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ قَوْقَلٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرٌ فِي الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: لَيْسَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ قَوْقَلٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرٌ فِي الصَّحِيحِ.
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں: سیدنا نعمان بن قوقل (جمعہ کے دن مسجد میں) داخل ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم دو رکعات ادا کر لو اور انہیں مختصر ادا کرنا جب کوئی شخص جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے دو رکعات ادا کر لینی چاہئیں، اور انہیں مختصر ادا کرنا چاہیے“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ”صحیح“ میں اس حدیث میں سیدنا نعمان بن قوقل کا ذکر نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3122]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف