مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
254. بَابُ الْإِنْصَاتِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ .
امام کے خطبے کے دوران خاموش رہنا
حدیث نمبر: 3133
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ نِقَاءٌ حِسَانٌ فَنَظَرَ إِلَى مَكَانٍ فِيهِ سَعَةٌ، فَجَلَسَ فِيهِ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا، وَخَرَجَ الْإِمَامُ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَكَلَّمَانِ، فَأَخَذَ مِنَ الْحَصَى فَرَمَاهُمَا فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَسَكَتَا فَلَمَّا نَزَلَ الْإِمَامُ قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمَا أَنَّكُمَا فِي صَلَاةٍ؟!.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ لَهُ تَرْجَمَةً.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ لَهُ تَرْجَمَةً.
ابوقیس بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے سفید صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے انہوں نے ایک جگہ کی طرف دیکھا جہاں گنجائش تھی تو وہاں بیٹھ گئے انہوں نے کسی کی گردن کو نہیں پھلانگا پھر امام آیا تو اس دوران دو آدمی بات چیت کر رہے تھے انہوں نے کنکریاں پکڑیں اور ان دونوں کو ماریں ان دونوں نے سیدنا عبداللہ تعالیٰ کی طرف دیکھا اور پھر وہ دونوں خاموش ہو گئے جب امام منبر سے نیچے آیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم دونوں یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تم دونوں نماز کی حالت میں تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس کے حالات میں نے نہیں پائے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3133]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس کے حالات میں نے نہیں پائے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3133]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3134
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ: اسْتَقْرَأَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ نَصِيبُكَ مِنَ الْجُمُعَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن کی کسی آیت کے بارے میں دریافت کیا: اس وقت امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جب نماز مکمل ہو گئی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم نے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا جمعہ میں سے تمہارا حصہ وہی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3134]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3134]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3135
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَفَى لَغْوًا أَنْ تَقُولَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فِي الْجُمُعَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لغو حرکت ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جمعہ کے دن جب امام آ چکا ہو تو تم اپنے ساتھی سے یہ کہو: کہ تم خاموش ہو جاؤ!
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3135]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3135]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔