مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابٌ فِي قَضَاءِ الْفَائِتِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ .
رمضان کے مہینے میں فوت شدہ کی قضاء کرنا
حدیث نمبر: 5066
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ، فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس پر کسی دوسرے رمضان کی کوئی چیز لازم ہو جس کی اس نے قضا نہ کی ہو، تو اس کی طرف سے (موجودہ رمضان) قبول نہیں ہو گا، اور جو شخص نفلی روزہ رکھ لے اور اس پر رمضان کے حوالے سے کوئی چیز لازم ہو جس کی اس نے قضاء نہ کی ہو، تو اس کی طرف سے (نفلی روزہ) قبول نہیں ہو گا جب تک وہ اس (رمضان کے رہ جانے والے) روزے کو نہیں رکھ لیتا“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5066]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5066]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 5067
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ رَمَضَانَ قَضَاهُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں کوئی چیز رہ جاتی تھی تو آپ ذولج کے مہینے میں اسے قضاء کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5067]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث: «. اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (787)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
قال الهيثمي: رواه الطبراني في الأوسط والصغير، وفيه إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع، وهو ضعيف (3/180)
قال الهيثمي: رواه الطبراني في الأوسط والصغير، وفيه إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع، وهو ضعيف (3/180)
حدیث نمبر: 5068
وَفِي رِوَايَةِ الْأَوْسَطِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَى بَأْسًا بِقَضَاءِ رَمَضَانَ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ.
وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ وَهَذَا أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ وَهَذَا أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
معجم اوسط کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ رمضان کی قضاء ذوالج کے عشرے میں کر لی جائے۔ پہلی روایت کی سند میں اور اس روایت میں بھی ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صینی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5068]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5069
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ فَلْيَصُمْ عَنْهُ وَلِيُّهُ إِنْ شَاءَ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ:" إِنْ شَاءَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ:" إِنْ شَاءَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اگر اس کا ولی چاہے، تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اگر وہ چاہے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5069]
یہ روایت ”صحیح“ میں منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اگر وہ چاہے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1023)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔