مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ .
روزے کی فضیلت
حدیث نمبر: 5070
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْزُوا تَغْنَمُوا وَصُومُوا تَصِحُّوا وَسَافِرُوا تَسْتَغْنُوا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جنگ میں حصہ لو تمہیں غنیمت حاصل ہو گی تم روزے رکھو تم تندرست رہو گے تم سفر کرو (تم لوگوں سے) بے نیاز ہو جاؤ گے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5070]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5070]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5071
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ إِلَّا الصَّوْمَ وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ إِلَّا الصَّوْمَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ إِلَّا الصَّوْمَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہر عمل کا کفارہ ہے صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے روزہ میرے لئے ہے، اور میں اس کی جزا دوں گا“۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”ہر عمل کا کفارہ ہے، البتہ روزے کا معاملہ مختلف ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5071]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”ہر عمل کا کفارہ ہے، البتہ روزے کا معاملہ مختلف ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5071]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسد (467/2)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5072
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَةَ ابْنَ آدَمَ بِعَشَرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ ؛ فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ; فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ جَاهِلٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".
وَلَهُ أَسَانِيدُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَبَعْضُ طُرُقِهِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ; فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ جَاهِلٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".
وَلَهُ أَسَانِيدُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَبَعْضُ طُرُقِهِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ انسان کی نیکی کو دس گنا سے لے کے سات سو گنا تک کر دیتا ہے، البتہ روزے کا معاملہ مختلف ہے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) ”روزہ میرے لئے ہے، اور میں اس کی جزا دوں گا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک خوشی افطاری کے وقت ملتی ہے، اور ایک خوشی قیامت کے دن نصیب ہو گی، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”جب تم میں سے کسی ایک شخص نے روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ قبیح کلام نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرئے، اگر کوئی جاہل اس کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کر تو وہ یہ کہہ دے میں نے روزہ رکھا ہوا ہے“۔ اس روایت کی مختلف اسانید ہیں جو امام طبرانی نے نقل کی ہیں اس کے بعض طرق کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی عمرو بن مجمع ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5072]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”جب تم میں سے کسی ایک شخص نے روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ قبیح کلام نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرئے، اگر کوئی جاہل اس کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کر تو وہ یہ کہہ دے میں نے روزہ رکھا ہوا ہے“۔ اس روایت کی مختلف اسانید ہیں جو امام طبرانی نے نقل کی ہیں اس کے بعض طرق کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں امام أحمد کی سند میں ایک راوی عمرو بن مجمع ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10078 و 10198) اخرجه احمد فى المسند (4256)»
الحكم على الحديث: إسناده بعض