مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاخْتِصَاءِ .
خصی ہو جانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7319
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي الْخِصَاءِ. قَالَ:" صُمْ وَاسْأَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے! آپ نے فرمایا: تم روزہ رکھو! اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو!“۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7319]
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7319]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7320
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَخْتَصِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ.
". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.
". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں خصی ہو جاؤں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا خصی ہونا، روزہ رکھنا اور نوافل ادا کرنا ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7320]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7320]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (6612)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7321
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ تَشُقُّ عَلَيَّ هَذِهِ الْعُزْبَةُ فِي الْمَغَازِي فَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَأَخْتَصِي؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ عَلَيْكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهَا مَخْفَرَةٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جنگوں کے دوران اکیلا رہنا مجھ پر گراں گزرتا ہے، تو آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! بلکہ اے ابن مظعون! تم پر روزے رکھنا لازم ہے، کیونکہ یہ شہوت کو ختم کر دیں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7321]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7321]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8320)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7322
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَكَا رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُزُوبَةَ فَقَالَ: أَلَا أَخْتَصِي؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى وَاخْتَصَى، وَلَكِنْ صُمْ وَوَفِّرْ شَعْرَ جَسَدِكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیلے ہونے کی شکایت کی اور عرض کی: کیا میں خصی نہ ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں، جو خصی کرے یا خصی ہو جائے، بلکہ تم روزہ رکھو اور اپنے جسم کے بال بڑھا لو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7322]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7322]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11304)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7323
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى الرَّجُلَ أَنْ يَتَبَتَّلَ، وَأَنْ يُحْرَمَ وُلُوجَ بُيُوتِ الْمُؤْمِنِينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي نَقَلْتُ مِنْهَا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي نَقَلْتُ مِنْهَا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع کرتے تھے کہ آدمی مجردر ہے، اور اہل ایمان کے گھروں میں داخل ہونے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، میں نے اپنے اس نسخے میں اس روایت کو اسی طرح پایا ہے، جس طرح میں نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7323]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، میں نے اپنے اس نسخے میں اس روایت کو اسی طرح پایا ہے، جس طرح میں نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7323]
الحكم على الحديث: إسناده حسن