🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

5. بَابُ عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ .
(نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان):”تم پر دین دار عورت کو اختیار کرنا لازم ہے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7325
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" أَبِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟" قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا. قَالَ:" أَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ. قَالَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لِدِينِهَا وَمَالِهَا وَجِمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ:" تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِثَلَاثٍ.". إِلَى آخِرِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کنواری کے ساتھ کہ ثیبہ کے ساتھ؟ میں نے عرض کی: شیبہ کے ساتھ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری کے ساتھ کیوں نہ کی؟ کہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ میرے اور میری بہنوں کے درمیان رکاوٹ نہ بن جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کے ساتھ اس کے دین، یا اس کے مال، یا اس کی خوبصورتی کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تو تم پر دین دار کو اختیار کرنا لازم ہے، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: عورت کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7325]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (302/3)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7326
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ لِجِمَالِهَا وَمَالِهَا وَخُلُقِهَا وَدِينِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کے ساتھ ان میں سے کسی ایک وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کی خوبصورتی، یا اس کا مال، یا اس کے اخلاق، یا اس کا دین، تو تم پر دین دار اور اچھے اخلاق والی عورت کو اختیار کرنا لازم ہے، تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7326]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1403) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1012) اخرجه احمد فى السند (80/3)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7327
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عُودُوا الْمَرِيضَ وَاتَّبِعُوا الْجِنَازَةَ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَأْتُوا الْعُرْسَ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَنْكِحُوا الْمَرْأَةَ مِنْ أَجْلِ حُسْنِهَا فَعَلَّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بِخَيْرٍ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَنْكِحُوا الْمَرْأَةَ لِكَثْرَةِ مَالِهَا وَعَلَّ مَالَهَا أَنْ لَا يَأْتِيَ بِخَيْرٍ، وَلَكِنْ بِذَاتِ الدِّينِ وَالْأَمَانَةِ فَاتَّبِعُوهُنَّ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیمار کی عیادت کرو جنازے کے ساتھ جاؤ اور تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تم شادی میں شریک نہ ہو، اور تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم عورت کی خوبصورتی کی وجہ سے اس سے نکاح نہ کرو، کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی بھلائی لے کے نہ آئے، اور تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تم کسی عورت کے مال کی کثرت کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح نہ کرو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کا مال بھلائی لے کے نہ آئے، بلکہ دین دار اور امانت والی عورتیں تلاش کرو (یا اُن کو ترجیح دو)۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7327]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (39,38/18)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں