مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابٌ فِي الَّذِي يَعْتِقُ أَمَتَهُ، وَلَمْ يَتَزَوَّجْهَا .
اس شخص کا بیان، جو اپنی کنیز کو آزاد کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ شادی نہیں کرتا
حدیث نمبر: 7350
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ سُرِّيَّتَهُ، ثُمَّ يَنْكِحُهَا كَمَثَلِ الَّذِي أَهْدَى بَدَنَةً، ثُمَّ رَكِبَهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنی کنیز کو آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کر لیتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو قربانی کا جانور اونٹ بھیجتا ہے اور پھر اس پر سوار ہو جاتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7350]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7350]
تخریج الحدیث: «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9681)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7351
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَرْبَعَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: أَزْوَاجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ فَأَعْجَبَتْهُ فَأَعْتَقَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ سَادَتِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چار لوگوں کو ان کا اجر دگنا دیا جائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو، اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو، جو مسلمان ہو اور وہ شخص جس کے پاس کوئی کنیز ہو، وہ کنیز اسے اچھی لگتی ہو، وہ اسے آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کر لے، اور وہ غلام، جو کسی کی ملکیت ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے حق اور اپنے آقا کے حق کو ادا کرتا ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7351]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7351]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7856)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف