🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

23. بَابُ نِكَاحِ الشِّغَارِ .
نکاح شغار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اسلام میں شعار کی اجازت نہیں ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے حدیث روایت کرنے کی صراحت کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7397]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7398
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى عَنِ الشِّغَارِ بَيْنَ النِّسَاءِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے درمیان شغار سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7398]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1439) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7069)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7399
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الشِّغَارِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالجبار بن وائل ہے، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7399]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1440)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7400
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ" قَالُوا: وَمَا الشِّغَارُ؟ قَالَ:" نِكَاحُ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ لَا صَدَاقَ بَيْنَهُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَالسَّنَدُ مُنْقَطِعٌ أَيْضًا.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے، لوگوں نے عرض کی: شغار سے مراد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عورت کے عوض میں عورت کے ساتھ نکاح کرنا، یوں کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کی سند منقطع بھی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7400]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (441)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7401
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ يَنْتَهِبُ" وَقَالَ:" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَتَانِ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى بِغَيْرِ صَدَاقٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو الصَّبَّاحِ عَبْدُ الْغَفُورِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو لوٹ لیتا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: اسلام میں شغار نہیں ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید راوی یہ کہتے ہیں:) شغار سے مراد یہ ہے کہ دو عورتوں کے ساتھ نکاح کیا جائے، جن میں سے ایک کے ساتھ نکاح دوسری کے عوض میں ہو، اور کسی مہر کے بغیر ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوصباح عبدالغفور ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7401]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12008)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں