🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

24. بَابُ نِكَاحِ التَّحْلِيلِ .
نکاح حلالہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7402
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کروانے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا ہے، اس پر (یعنی ان دونوں) لعنت کی ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن محمد اخنسی ہے، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے علی بن مدینی کہتے ہیں: اس کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منکر احادیث منقول ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7402]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى السند (1442)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7403
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ بِهِ أَنْ يُحِلَّهَا لِرِفَاعَةَ فَلَا تُتِمَّ لَهُ نِكَاحًا مَرَّةً أُخْرَى". ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَقَوْلُهُ: بِنَحْوِهِ لَمْ يُذْكَرْ قَبْلَهُ مَا يُنَاسِبُهُ، وَلَا أَدْرِي عَلَى أَيِّ شَيْءٍ عَطَفَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: پھر اس کے بعد وہ خاتون آئی اور اس نے آپ کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے مس کر لیا ہے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کر لی ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس بات سے منع کر دیا کہ وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف واپس جائے، آپ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! اگر تو اس کے ذریعے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ رفاعہ کے لئے حلال ہو جائے، تو پھر دوسری مرتبہ تو اس کے نکاح کو پورا نہ کروانا، اس کے بعد وہ عورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس، ان حضرات کے عہد خلافت میں آئی، لیکن ان دونوں حضرات نے اس عورت کو منع کر دیا۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے، اور ان کا یہ کہنا ان کی مانند ہے، اس میں اس سے پہلے والی روایت کے ساتھ مناسبت کا کوئی پہلو نہیں ہے، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ عطف دیا ہے؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7403]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (3441)»

الحكم على الحديث: إسناده رجالُہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7404
وَعَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ خَالِيَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَهُ مِنْ ذَلِكَ هَمٌّ وَأَمْرٌ وَشُقَّ عَلَيْهِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَهَا، وَلَمْ يَأْمُرْنِي بِذَلِكَ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا إِلَّا نِكَاحَ غِبْطَةٍ إِنْ وَافَقَتْكَ أَمْسَكْتَ، وَإِنْ كَرِهَتْ فَارَقْتَ، وَإِلَّا فَإِنَّا نَعُدُّ هَذَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِفَاحًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
نافع، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں: وہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: اس نے کہا: میرے ماموں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اب وہ اس معاملے میں غمگین اور پریشان ہیں اور یہ بات اس پر گراں گزر رہی ہے، میں نے یہ ارادہ کیا ہے، میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لیتا ہوں (پھر اسے طلاق دے کر ماموں کے لئے حلالہ کروا دوں گا) میرے ماموں نے مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا اور انہیں اس بات کا پتہ بھی نہیں ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جی نہیں! نکاح صرف وہ ہوتا ہے، جو بقاء کی نیت سے ہو، اگر وہ تمہیں موافق آ جائے، تو تم اسے روک کے رکھو، اور اگر وہ عورت تمہیں ناپسند ہو، تو تم علیحدگی اختیار کر لینا، اس کے علاوہ کچھ نہیں، اس چیز کو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا شمار کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7404]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں