مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابٌ فِيمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَفَارَقَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّهَا .
اس شخص کا بیان، جو کسی عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے، پھر اس سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور پھر اس کی ماں سے شادی کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 7422
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ قَالَ: فَرِّقْ بَيْنَهُمَا. فَقَالَ: إِنَّهَا وَلَدَتْ. قَالَ: وَإِنْ وَلَدَتْ لَهُ عَشَرَةً فَرِّقْ بَيْنَهُمَا.
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ایک شخص اپنی بیوی کی رخصتی کروانے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے، تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی کے ساتھ شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس شخص نے ایسی عورت کے ساتھ شادی کر لی، اس عورت نے اس شخص کے بچے کو جنم دے دیا، پھر وہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: تم ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کرواؤ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت نے تو بچے کو جنم دے دیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرچہ اس نے دس بچوں کو جنم دیا ہو، پھر بھی تم ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دو۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7422]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9624)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 7423
وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَخَّصَ فِي الصَّرْفِ، وَفِي الرَّجُلِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَيَتَزَوَّجُ بِأُمِّهَا. فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ”صرف“ کی رخصت دیتے تھے اور اس بات کی رخصت دیتے تھے کہ آدمی نے کسی عورت کے ساتھ شادی کی ہو، اور پھر اس عورت کی رخصتی ہونے سے پہلے عورت کا انتقال ہو جائے، تو آدمی اس کی ماں کے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7423]
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7423]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8576)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن