مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ، وَغَيْرِهَا .
نیک عورت اور اس کے علاوہ (یعنی بری عورت) کا بیان
حدیث نمبر: 7442
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَثَلُ الْمَرْأَةِ الْمُؤْمِنَةِ كَمَثَلِ الْغُرَابِ الْأَبْلَقِ فِي غِرْبَانٍ سُودٍ لَا ثَانِيَةَ لَهَا، وَلَا شَبَهَ لَهَا. وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ السُّوءِ كَمَثَلِ بَيْتٍ مُزَوَّقٍ ظَهْرُهُ، خَرِبٍ جَوْفُهُ، كَظُلَّةٍ لَا نُورَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَى أَنْ لَا تَقُومَ امْرَأَةٌ عَنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا مُجَانِبَةً لَهُ إِلَّا هِيَ عَاصِيَةٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن عورت کی مثال، کالے کووں میں، ابلق کوے کی مانند ہے، جس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا، اور جس کے کوئی مشابہہ نہیں ہوتا، اور بری عورت کی مثال ایسے گھر کی مانند ہے، جس کی پشت (یعنی ظاہر) آراستہ ہو، اور جس کا اندرونی حصہ خراب ہو، اور ایسے بادل کی مانند ہے، جس کا قیامت کے دن نور نہیں ہو گا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جو عورت شوہر سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے، اس کے بستر سے اُٹھ جاتی ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمان شمار ہو گی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7442]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7442]
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7443
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: قَالَ دَاوُدُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كُنْ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ وَاعْلَمْ أَنَّكَ كَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ، وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ لِبَعْلِهَا كَالْمَلِكِ الْمُتَوَّجِ بِالْمُخَوَّصِ بِالذَّهَبِ كُلَمَّا رَآهَا قَرَّتْ بِهَا عَيْنَاهُ وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ السُّوءِ لِبَعْلِهَا كَالْحِمْلِ الثَّقِيلِ عَلَى الشَّيْخِ الْكَبِيرِ.
قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ فِي الْمَوَاعِظِ بِتَمَامِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ فِي الْمَوَاعِظِ بِتَمَامِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا داؤد نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”تم یتیم کے لیے، اس طرح ہو جاؤ! جیسے رحیم باپ ہوتا ہے، اور تم یہ بات جان لو! کہ تم جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے، اور شوہر کے لئے نیک عورت کی مثال، اس طرح ہے جیسے کسی بادشاہ نے تاج پہنا ہوا ہو، جو سونے سے آراستہ ہو، جب کبھی بھی وہ اسے دیکھے تو اس کی آنکھوں میں ٹھنڈک آئے، اور بری عورت کی مثال اپنے شوہر کے لئے اس طرح ہے، جس طرح کسی بوڑھے آدمی پر بہت سا بوجھ لاد دیا گیا ہو“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے، یہ ”مواعظ“ سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7443]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7443]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح