🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

42. بَابُ اسْتِئْمَارِ الْيَتِيمَةِ .
یتیم لڑکی سے مرضی معلوم کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7474
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِذَا أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یتیم لڑکی سے، اُس کی ذات کے بارے میں، اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے، تو یہ اُس کی مرضی شمار ہو گی اور اگر وہ انکار کر دے، تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7474]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1422 و 1423) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3727) اخرجه احمد فى المسند (411,408,394/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7475
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ قَالَ: وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَهُمَا خَالَايَ. قَالَ: فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَةَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِيهَا وَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ - يَعْنِي إِلَى أُمِّهَا - فَأَرْغَبَهَا بِالْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا فَأَبَتَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمِّهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا فِي الصَّلَاحِ، وَلَا فِي الْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ، وَإِنَّمَا حَطَّتْ إِلَى أُمِّهَا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هِيَ يَتِيمَةٌ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا".
قَالَ: فَانْتُزِعَتْ وَاللَّهِ مِنِّي بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، انہوں نے خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن اوقص سے اپنی ایک بیٹی چھوڑی، راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصی مقرر کیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ دونوں حضرات میرے ماموں تھے، میں نے قدامہ بن مظعون کو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے میری شادی اس خاتون کے ساتھ طے کر دی، مغیرہ بن شعبہ اس خاتون کی ماں کے پاس آئے اور انہیں مال کے حوالے سے رغبت دلائی، تو اس خاتون کا جھکاؤ ان کی طرف ہو گیا اور لڑکی کا جھکاؤ بھی ماں کی خواہش کی طرف تھا، ان دونوں نے انکار کر دیا، ان دونوں کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو سیدنا قدامہ بن مطعون رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میری بھتیجی ہے اور میرے بھائی نے اس کا مجھے وصی مقرر کیا تھا، اور میں نے اس کی شادی اس کے چچازاد عبداللہ بن عمر سے کی ہے، میں نے بہتری میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، لیکن یہ عورت اپنی ماں کی طرف مائل ہو گئی ہے، راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ یتیم لڑکی ہے، اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اس کا مالک ہو چکا تھا، اس کے بعد اسے مجھ سے الگ کر دیا گیا، اور ان لوگوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7475]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (6136)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں