مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ الصَّدَاقِ .
مہر کا بیان
حدیث نمبر: 7476
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَنْكِحُوا الْأَيَامَى ثَلَاثًا عَلَى مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ وَلَوْ قَبْضَةً مِنْ أَرَاكٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیوہ عورتوں کا نکاح کروا دو! یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، اس چیز پر، جس پر اس کے اہل خانہ راضی ہوتے ہیں خواہ وہ مٹھی بھر پیلو ہی کیوں نہ ہوں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7476]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7476]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (12990)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7477
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" عَوِّضُوهُنَّ وَلَوْ بِسَوْطٍ" - يَعْنِي فِي التَّزْوِيجِ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہیں معاوضہ (یعنی مہر) دو! خواہ وہ ایک لاٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔ راوی کہتے ہیں: یعنی شادی میں ایسا کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7477]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7477]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5931)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7478
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: زَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِامْرَأَةٍ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَصُّهُ مِنْ فِضَّةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی شادی ایک خاتون کے ساتھ لوہے کی انگوٹھی کے عوض میں کروا دی، جس میں چاندی لگی ہوئی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7478]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7478]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5837)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7479
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْنِي فُلَانَةً. قَالَ:" مَا مَعَكَ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ - أَوْ تُعْطِيهَا -؟" قَالَ: مَا مَعِي شَيْءٌ. قَالَ:" لِمَنْ هَذَا الْخَاتَمُ؟" قَالَ: لِي. قَالَ:" فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ" وَأَنْكَحَهَا، وَأَنْكَحَ آخَرَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَحُسَيْنٌ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَحُسَيْنٌ مَتْرُوكٌ.
حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میری شادی فلاں خاتون کے ساتھ کروا دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اُسے مہر کے طور پر دینے کے لئے کیا ہے؟ اس نے عرض کی: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ انگوٹھی کس کی ہے؟ اس نے عرض کی: یہ میری ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ اُسے دے دو! آپ نے اس خاتون کے ساتھ اس شخص کی شادی کروا دی، اسی طرح ایک اور شخص، جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، آپ نے سورۃ بقرہ (کی تعلیم) کی شرط پر اُس کی شادی کروا دی تھی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین نامی راوی متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7479]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین نامی راوی متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7479]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8153)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7480
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بَإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِي الْآخَرِ رَجَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بَإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِي الْآخَرِ رَجَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان (خواتین) میں سب سے بہتر وہ ہیں، جن کا مہر (ادا کرنا) سب سے زیادہ آسان ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، دوسری میں رجاء بن حارث ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7480]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، دوسری میں رجاء بن حارث ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7480]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11100 و 11101)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7481
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَخَفُّ النِّسَاءِ صَدَاقًا أَعْظَمُهُنَّ بَرَكَةً، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ شِبْلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ ”سب سے کم مہر والی خواتین، سب سے زیادہ برکت والی ہوتی ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن شبل ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7481]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن شبل ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7481]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7482
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرَ رَحِمَهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِمَا: عَنْ عُرْوَةَ: فَأَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا".
وَفِي إِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِمَا: عَنْ عُرْوَةَ: فَأَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا".
وَفِي إِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کی برکت میں، یہ بات شامل ہے کہ اُسے نکاح کا پیغام دینا آسان ہو، اس کا مہر دینا آسان ہو، اور اس کا رحم آسان ہو (یعنی وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو)“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، انہوں نے ان دونوں روایات میں یہ بات نقل کی ہے: عروہ کے حوالے سے منقول ہے، عروہ کہتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں: عورت کی سب سے پہلی نحوست یہ ہے کہ اس کا مہر زیادہ ہو۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7482]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، انہوں نے ان دونوں روایات میں یہ بات نقل کی ہے: عروہ کے حوالے سے منقول ہے، عروہ کہتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں: عورت کی سب سے پہلی نحوست یہ ہے کہ اس کا مہر زیادہ ہو۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7482]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (469) اخرجه احمد فى المسند (77/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7483
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنِ اسْتَحَلَّ بِدِرْهَمٍ فِي النِّكَاحِ، فَقَدِ اسْتَحَلَّ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ، اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نکاح میں، ایک درہم کے عوض میں حلال کروا لے (یعنی ایک درہم مہر کے طور پر ادا کرے) تو اس نے حلال کروا لیا“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7483]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7483]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (943)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7484
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَسِّمُ الْغَنَمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ تَقَعُ الشَّاةُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: دَعْ لِي نَصِيبَكَ أَتَزَوَّجْ بِهِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَبْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَبْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان صدقہ کی بکریاں تقسیم کیں، ایک بکری دو آدمیوں کے حصے میں آئی، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم اپنا حصہ میرے لئے چھوڑ دو! میں اس کے عوض میں شادی کر لوں گا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حرب بن میمون عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے، امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7484]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حرب بن میمون عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے، امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7484]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6041)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7485
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ كَانَ قِيمَتُهَا ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَثُلُثًا.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک خاتون کے ساتھ سونے کی ایک گٹھلی کے وزن جتنے سونے کے عوض میں شادی کی، اُس سونے کی قیمت تین درہم اور ایک تہائی درہم تھی۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے: تاہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7485]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے: تاہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7485]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1427)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف