🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

48. بَابٌ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ شُهُودٍ .
گواہوں کے بغیر نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7527
عَنْ كَرْدَمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَلَيَّ حِذَاءٌ، وَلَا حِذَاءَ لَهُ فَقَالَ: أَعْطِنِي نَعْلَكَ. فَقُلْتُ: لَا إِلَّا أَنْ تُزَوِّجَنِي ابْنَتَكَ! قَالَ: أَعْطِنِي، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا. فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِنَعْلِي وَقَالَ: لَا زَوْجَةَ لَكَ عِنْدِي. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذَوْدًا مِنْ ذَوْدِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا کردم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے چچازاد جن کا نام ابوثعلبہ تھا، ہم ایک گرم دن میں (سفر پر) نکلے میں نے جوتے پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس جوتے نہیں تھے، انہوں نے کہا: تم اپنے جوتے مجھے دے دو! میں نے کہا: جی نہیں! البتہ اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کریں گے (تو میں دے دوں گا) انہوں نے کہا: تم مجھے دے دو! میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی، جب ہم واپس آئے، تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور کہا: تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس عورت کو چھوڑ دو! تمہارے لئے اس میں بہتری نہیں ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے ایک نذر مانی تھی کہ میں فلاں، فلاں جگہ پر اپنا اونٹ قربان کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کر دو! قطع رحمی کے بارے میں اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7527]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (191/19)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7528
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَلَقِيتُهُ، وَكَلَّمْتُهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ فَقَالَ: أَعِرْنِي حِذَاءَكَ فَقُلْتُ: لَا أُعِيرُكَهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ قَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ: لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عروہ بن رویم لخمی، سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: چھوٹا معاملہ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بھلائی کا چھوٹا معاملہ یا خرابی کا چھوٹا معاملہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! بلکہ بھلائی کا چھوٹا معاملہ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک مرتبہ میں سفر پر اپنے چچا کے ساتھ روانہ ہوا، انہیں جوتوں کی ضرورت پیش آئی، تو انہوں نے مجھے کہا: تم جو تے عاریت کے طور پر مجھے دے دو، میں نے کہا: میں یہ آپ کو عاریت کے طور پر نہیں دوں گا، اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کرتے ہیں (تو پھر دے دوں گا) انہوں نے کہا: میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی جب ہم اپنے گھر واپس پہنچے، تو انہوں نے مجھے میرے جوتے بھجوا دیے اور بولے: تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اس عورت میں بھلائی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جو اس سے پہلے گمشدہ چیز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ یزید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7528]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں