مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابٌ فِيمَنْ نَكَحَ أَوْ أَعْتَقَ أَوْ طَلَّقَ لَاعِبًا .
اس شخص کا بیان، جو مذاق میں نکاح کرتا ہے، یا غلام آزاد کرتا ہے یا طلاق دے دیتا ہے
حدیث نمبر: 7529
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُطَلِّقُ، ثُمَّ يُرَاجِعُ وَيَقُولُ: كُنْتُ لَاعِبًا. وَيَعْتِقُ، ثُمَّ يُرَاجِعُ وَيَقُولُ: كُنْتُ لَاعِبًا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا) فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ طَلَّقَ أَوْ حَرَّمَ أَوْ نَكَحَ أَوْ أَنْكَحَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ لَاعِبًا فَهُوَ جَادٌّ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مِنْ أَعْدَاءِ اللَّهِ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الطَّلَاقِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مِنْ أَعْدَاءِ اللَّهِ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الطَّلَاقِ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص طلاق دیتا تھا، پھر رجوع کر لیتا تھا اور کہتا تھا: میں نے تو مذاق کیا تھا اسی طرح غلام آزاد کرتا تھا اور پھر رجوع کر لیتا تھا اور یہ کہتا تھا: میں نے تو مذاق کیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ“۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص طلاق دے، یا حرام قرار دے، یا نکاح کرے، یا نکاح کروائے اور پھر یہ کہے: میں تو مذاق کر رہا تھا، تو وہ سنجیدہ شمار ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے، اور وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ایک ہے، میں یہ کہتا ہوں: اس طرح کی ایک حدیث ”طلاق“ سے متعلق باب میں آگے آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7529]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے، اور وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ایک ہے، میں یہ کہتا ہوں: اس طرح کی ایک حدیث ”طلاق“ سے متعلق باب میں آگے آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7529]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 7530
وَعَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ نَكَحَ لَاعِبًا أَوْ طَلَّقَ لَاعِبًا، فَقَدْ جَازَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعْضِلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَيَأْتِي فِي الطَّلَاقِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَقَدْ مَضَى فِي الْعِتْقِ بَعْضُهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعْضِلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَيَأْتِي فِي الطَّلَاقِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَقَدْ مَضَى فِي الْعِتْقِ بَعْضُهَا.
عبدالکریم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص مذاق کے طور پر نکاح کر دے، یا مذاق کے طور پر طلاق دے، تو یہ درست ہو گا (یعنی ثابت شمار ہو گا)“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس میں ”معضل“ ہونا پایا جاتا ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ”طلاق“ سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث آگے آئیں گی، اگر اللہ نے چاہا، اور اس نوعیت کی دیگر احادیث ”غلام آزاد کرنے“ سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7530]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس میں ”معضل“ ہونا پایا جاتا ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ”طلاق“ سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث آگے آئیں گی، اگر اللہ نے چاہا، اور اس نوعیت کی دیگر احادیث ”غلام آزاد کرنے“ سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7530]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (9707)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح