مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ .
صحبت کرنے، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7548
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا آتِيَ أَهْلِي فِي غُرَّةِ الْهِلَالِ، وَأَنْ لَا أَتَوَضَّأَ مِنَ النُّحَاسِ، وَأَنْ أَسْتَنَّ كُلَمَّا قُمْتُ مِنْ سِنَتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کروں، اور میں پیتل کے برتن سے وضو نہ کروں، اور جب بھی میں نیند سے بیدار ہوؤں، تو میں مسواک کر لوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے، اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7548]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے، اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (349/19)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7549
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ وِقَايَةٌ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ:" فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ:" فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف لائے پھر تشریف لے گئے آپ نے غسل کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا کوئی معاملہ در پیش ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں میرے پاس سے ایک عورت گزری، تو میرے دل میں بیوی کے لئے خواہش پیدا ہوئی، تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور میں نے اس کے ساتھ قربت کر لی تمہارے اعمال میں مثالی بچاؤ کا طریقہ یہی ہے کہ آدمی حلال طریقے سے (خواہش پوری کر لے)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تو تم لوگ اسی طرح کر لو“ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7549]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تو تم لوگ اسی طرح کر لو“ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (338/22) اخرجه احمد فى المسند (231/4)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7550
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ عَطَّارَةً قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فَضْلِ نِكَاحِ الرَّجُلِ أَهْلَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک عورت تھی، جو عطر فروش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پوری حدیث ذکر کی ہے جو آدمی کے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7550]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7550]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7551
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" عُدْتَ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" فَتَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" فَصَلَّيْتَ عَلَى جِنَازَةٍ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" فَأَصَبْتَ مِنْ أَهْلِكَ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" فَأَصِبْ مِنْهُمْ، فَإِنَّهَا مِنْكَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً" وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے آج کسی بیمار کی عیادت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے کوئی چیز صدقہ کی ہے اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے نماز جنازہ پڑھی ہے اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی ہے اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ کر لینا تھا یہ تمہاری طرف سے اس پر صدقہ ہونا تھا۔ راوی کہتے ہیں: یہ جمعہ کے دن کی بات ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن عاصم بن ہلال بارقی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7551]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن عاصم بن ہلال بارقی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7551]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7552
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي وَجَنِّبْ مَا رَزَقْتَنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَإِنْ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز آ جاتا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس جائے، تو یہ پڑھ لے: ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ! تو مجھے، اور جو رزق (یعنی اولاد) تو مجھے عطا کرے گا اسے مردود شیطان سے الگ رکھنا“۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اگر ان دنوں میاں بیوی کے نصیب میں اولاد ہوئی، تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7552]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7839)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7553
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَفِيتَ. قُلْتُ لِلْحَسَنِ: وَمَا الْكَفِيتُ؟ قَالَ: الْبِضَاعُ.
قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ: الْكِفَاتُ: الْجِمَاعُ.
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ السَّلَامِ بْنَ عَاصِمٍ الرَّازِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ: الْكِفَاتُ: الْجِمَاعُ.
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ السَّلَامِ بْنَ عَاصِمٍ الرَّازِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفیت عطا کیا گیا تھا۔ رادی کہتے ہیں: میں نے حسن سے دریافت کیا: کفیت سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ٹکڑا۔ ابن اثیر کہتے ہیں: کفات کا مطلب صحبت کرنا ہے۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالسلام بن عاصم رازی کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7553]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7554
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ أُعْطِيتُ مِنْهُ شَيْئًا مَا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَهُ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْجِمَاعَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے اس حوالے سے جتنی صلاحیت عطا کی گئی ہے میرے علم کے مطابق کسی کو اتنی عطا نہیں کی گئی البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد صحبت کرنے کی صلاحیت تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7554]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1420) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13512)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7555
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أُعْطِيتُ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أُعْطِيَ قُوَّةَ عَشَرَةٍ وَجُعِلَتِ الشَّهْوَةُ عَلَى عَشَرَةِ أَجْزَاءٍ وَجُعِلَتْ تِسْعَةُ أَعْشَارٍ مِنْهَا فِي النِّسَاءِ وَوَاحِدَةٌ فِي الرِّجَالِ وَلَوْلَا مَا أُلْقِيَ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ مَعَ شَهَوَاتِهِنَّ لَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ مُغْتَلِمَاتٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گرفت اور نکاح کے حوالے سے مجھے چالیس آدمیوں جتنی قوت عطا کی گئی ہے، اور ہر مومن کو دس افراد جتنی قوت دی جاتی ہے، اور شہوت کے دس اجزا کیے گئے ہیں، جن میں سے نو اجزاء خواتین میں ہوتے ہیں اور ایک جزء مردوں میں ہے، اگر خواتین پر حیاء نہ ڈالی گئی ہوتی، جو ان کی خواہش کے ساتھ ہوتی ہے، تو ہر آدمی کے ساتھ نو، بیویاں ہونی تھیں، جن میں نکاح (یعنی ازدواجی تعلق قائم رکھنے کی) شدید خواہش ہوتی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7555]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7555]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7556
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَضْلُ مَا بَيْنَ لَذَّةِ الْمَرْأَةِ وَلَذَّةِ الرَّجُلِ كَأَثَرِ الْمَخِيطِ فِي الطِّينِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يَسْتُرُهُنَّ بِالْحَيَاءِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَوْذَبٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَوْذَبٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کی لذت اور مرد کی لذت کے درمیان اتنا فرق ہے جس طرح مٹی میں سوئی کا نشان ہوتا ہے، البتہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر حیاء کے ذریعے پردہ ڈال دیا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن علی بن شوذب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7556]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن علی بن شوذب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7556]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7557
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَسْتَتِرِ اسْتَحْيَتِ الْمَلَائِكَةُ فَخَرَجَتْ فَإِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ كَانَ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَصِيبٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے، تو اسے پردہ کر لینا چاہیے اگر وہ پردہ نہیں کرے گا، تو فرشتے اس سے حیا کرتے ہوئے باہر چلے جائیں گے، اور اگر ان دونوں کے ہاں اولاد ہو گی، تو شیطان کا اس میں سے حصہ ہو گا“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7557]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1448) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (178)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف