🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

55. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ .
صحبت کرنے، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7558
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ وَقَالَ الْبَزَّارُ: أَخْطَأَ مِنْدَلٌ فِي رَفْعِهِ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آئے، تو اسے پردہ کر لینا چاہیے، اور اسے مکمل طور پر برہنہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ امام بزار کہتے ہیں: مندل نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرنے میں غلطی کی ہے، درست یہ ہے کہ
یہ روایت مرسل ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1449) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10443)»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7559
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ، وَلَا يَتَعَرَّيَانِ تَعَرِّيَ الْحَمِيرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آئے، تو اسے اپنے اوپر، اور اپنی بیوی پر پردہ کر لینا چاہیے، اور گدھوں کی طرح مکمل برہنہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7559]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7683)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7560
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا جَالِسٌ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ إِذْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي لَأَحْسَبُكُنَّ تُخْبِرْنَ مَا يَفْعَلُ بِكُنَّ أَزْوَاجُكُنَّ" قَالَتْ: إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَفْعَلْنَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ" قَالَ:" لَأَحْسَبُ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ إِذَا أَتَاهَا زَوْجُهَا لَيَكْشِفَانِ عَنْهُمَا اللِّحَافَ يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ؟" قَالَتْ: إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَلَا تَفْعَلْنَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ کے پاس ایک خاتون موجود تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم خواتین کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم ایک دوسرے کو یہ بات بتا دیتی ہو کہ تمہارے شوہروں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس خاتون نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! ہم (خواتین) ایسا کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو! کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والے پر ناراض ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے تم خواتین میں سے کسی ایک کا شوہر جب اس کے پاس آتا ہے، تو وہ اوپر سے لحاف ہٹا دیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ لیں، یوں جیسے وہ دونوں گدھے ہوں، اس خاتون نے عرض کی: جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو! کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7560]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7844)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7561
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: أَتَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْتَحِي أَنْ يَرَى أَهْلِي عَوْرَتِي. قَالَ:" وَلِمَ، وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ لَهُنَّ لِبَاسًا وَجَعَلَهُنَّ لَكَ لِبَاسًا؟" قَالَ: أَكْرَهُ ذَلِكَ. قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ مِنِّي وَأَرَاهُ مِنْهُمْ" قَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنَا"، قَالَ: أَنْتَ فَمَنْ بَعْدَكَ إِذًا؟ قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ عُثْمَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ ابْنَ مَظْعُونٍ لَحَيِيٌّ سِتِّيرٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا سعد بن مسعود لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اس بات سے حیاء آتی ہے کہ میری بیوی میری شرمگاہ دیکھ لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا لباس بنایا ہے، اور اسے تمہارا لباس بنایا ہے۔ انہوں نے عرض کی: لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن میری بیویاں میری شرمگاہ کو دیکھ لیتی ہیں اور میں ان کی شرمگاہ کو دیکھ لیتا ہوں ان صاحب نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ چلے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن مظعون شرمیلا اور پردے والا شخص ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7561]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8318)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں