🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
55. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ .
صحبت کرنے، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7560
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا جَالِسٌ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ إِذْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي لَأَحْسَبُكُنَّ تُخْبِرْنَ مَا يَفْعَلُ بِكُنَّ أَزْوَاجُكُنَّ" قَالَتْ: إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَفْعَلْنَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ" قَالَ:" لَأَحْسَبُ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ إِذَا أَتَاهَا زَوْجُهَا لَيَكْشِفَانِ عَنْهُمَا اللِّحَافَ يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ؟" قَالَتْ: إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَلَا تَفْعَلْنَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ کے پاس ایک خاتون موجود تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم خواتین کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم ایک دوسرے کو یہ بات بتا دیتی ہو کہ تمہارے شوہروں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس خاتون نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! ہم (خواتین) ایسا کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو! کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والے پر ناراض ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے تم خواتین میں سے کسی ایک کا شوہر جب اس کے پاس آتا ہے، تو وہ اوپر سے لحاف ہٹا دیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ لیں، یوں جیسے وہ دونوں گدھے ہوں، اس خاتون نے عرض کی: جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو! کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7560]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7844)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 7560 in Urdu