🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

62. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ .
عزل کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7583
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الْعَزْلِ: هُوَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى الْخَفِيَّةُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَجَعَ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے عزل کے بارے میں یہ فرمایا ہے: یہ پوشیدہ قسم کا چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7583]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7584
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخِدْرِي قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ يَكْرَهَانِ الْعَزْلَ، وَكَانَ زَيْدٌ وَابْنُ مَسْعُودٍ يَعْزِلَانِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ فِي الْعَزْلِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عزل کو مکروہ قرار دیتے تھے جبکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عزل کر لیتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول عزل کے بارے میں حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7584]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلي (1050)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7585
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَا خَلُصْتُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَّا بِقَيْنَةٍ أُرِيدُ بِهَا السُّوقَ، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا؟ قَالَ:" جَاءَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: مشرکین میں سے مجھے (مال غنیمت کے حصے میں) صرف ایک لڑکی ملی ہے، جسے میں بازار میں فروخت کرنا چاہتا ہوں، کیا میں اس سے عزل کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے پاس وہ چیز آ جائے گی جو اس کے نصیب میں لکھی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے، اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7585]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2370)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7586
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ يَعْزِلُ عَنْهَا، وَكَانَتْ سُرِّيَّتَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَلِيٌّ وَجَدَّتُهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا.
علی بن حسن نامی صاحب اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس خاتون کے ساتھ عزل کر لیتے تھے (راوی کہتے ہیں:) وہ خاتون سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ علی نامی راوی اور اس کی دادی، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7586]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2685)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں