🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

80. بَابُ مَتَى يُحْجَبُ الصَّبِيُّ .
بچے سے کب پردہ کیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7719
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةُ احْتَلَمْتُ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ:" لَا تَدْخُلْ عَلَى النِّسَاءِ" فَمَا أَتَى عَلَيَّ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زُفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب وہ صبح آئی جب مجھے احتلام ہوا تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: اب تم خواتین پر داخل نہیں ہو گے۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) مجھ پر اس دن سے زیادہ شدید دن کوئی نہیں آیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زفر بن سلیمان ہے، اور وہ ثقہ ہے اس میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7719]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7720
وَعَنْ سَعِيدِ ابْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ فَاطِمَةُ تَكْشِفُ رَأْسَهَا إِذَا دَخَلَ الْغُلَامُ فَإِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ غَطَّتْهُ..
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِثٍ الْبَكْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اگر کوئی بچہ گھر میں آتا تھا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سر پر کپڑا نہ بھی ہو (تو خیال نہیں کرتی تھیں) لیکن اگر کوئی مرد آتا تھا تو وہ سر کو ڈھانپ لیتی تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7720]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں