مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابٌ فِيمَنْ يَرْضَى لِأَهْلِهِ بِالْخُبْثِ .
جو شخص اپنی بیوی کے لئے خباثت سے راضی ہو
حدیث نمبر: 7721
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ: مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ، وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخُبْثَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام قرار دیا ہے باقاعدگی سے شراب پینے والا (والدین کا) نافرمان اور دیوث جو اپنی بیوی میں خباثت کو برقرار رکھتا ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7721]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7721]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (5372)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7722
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ أَبَدًا: الدَّيُّوثُ وَالرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرَ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا الْمُدْمِنُ الْخَمْرَ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الدَّيُّوثُ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يُبَالِي مَنْ دَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ" قُلْنَا: فَمَا الرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ؟ قَالَ:" الَّتِي تَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسَاتِيرُ وَلَيْسَ فِيهِمْ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسَاتِيرُ وَلَيْسَ فِيهِمْ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین قسم کے لوگ جنت میں کبھی داخل نہیں ہوں گے، دیوث مرد نما عورتیں اور با قاعدگی سے شراب پینے والا شخص، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جہاں تک باقاعدگی سے شراب پینے والے شخص کا تعلق ہے۔ اس سے، تو ہم واقف ہیں یہ دیوث کیا ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کے پاس کون آتا ہے ہم نے عرض کی: مرد نما عورتوں سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں مستور راوی ہیں لیکن ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہو کہ یہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7722]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں مستور راوی ہیں لیکن ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہو کہ یہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7722]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7723
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أُحَيْمِرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ الصُّقُورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الصُّقُورُ؟ قَالَ:" الَّذِي يُدْخِلُ عَلَى أَهْلِهِ الرِّجَالَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو رُزَيْنٍ الْبَاهِلِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو رُزَيْنٍ الْبَاهِلِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا مالک بن احیمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن صقور سے کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صقور سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی بیوی کے پاس مردوں کو لے جاتا ہے“۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابورزین باہلی ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7723]
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابورزین باہلی ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7723]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1489) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (294/14)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف