مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 14262
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ مِنَ اللَّحْمِ الَّذِي كَانَتِ الْيَهُودِيَّةُ سَمَّتْهُ، فَانْقَطَعَ أَبْهَرُهُ مِنَ السُّمِّ عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ. كَانَ يَقُولُ:" مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنْهُ حِسًّا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس گوشت کو کھانے کی وجہ سے ہوا تھا، جس میں یہودی عورت نے زہر ملایا تھا، اس کی وجہ سے ایک سال تک آپ کو گلا کٹتا ہوا محسوس ہوتا تھا، آپ یہ فرماتے تھے: مجھے مسلسل اس کی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14262]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14262]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11503)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14263
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مِثْلُ لَيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا عَائِشَةُ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ؟". فَأَقُولُ: لَا، حَتَّى أَذَّنَ بِلَالٌ بِالْفَجْرِ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا هَذَا؟". فَقُلْتُ: هَذَا بِلَالٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھ پر کوئی رات ایسی نہیں گزری، جو اس رات کی مانند تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا صبح صادق ہو گئی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں! یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان دی، پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: یہ بلال ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14263]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14263]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (849)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14264
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، وَهُوَ يَمُدُّ يَدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا جِبْرِيلُ، أَيْنَ أَنْتَ؟". ثُمَّ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا جِبْرِيلُ اشْفَعْ لِي عِنْدَ رَبِّي يُهَوِّنْ عَلَيَّ الْمَوْتَ". فَذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: لَقَدْ سَمِعْتُ مَا لَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ مِنْ جِبْرِيلَ، وَهُوَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا، تو آپ نے ہاتھ کو بڑھا کر یہ فرمایا: جبرائیل تم کہاں تھے؟ پھر آپ نے ہاتھ کو بند کر لیا اور پھر اسے پھیلایا، ایسا چند مرتبہ کیا اور آپ یہی فرما رہے تھے: اے جبرائیل! میرے پروردگار کی بارگاہ میں میری سفارش کرو کہ وہ مجھ پر موت کو آسان کر دے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی: کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے وہ بات سنی تھی جو آپ نے نہیں سنی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس وقت یہ کہا: تھا: میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14264]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14264]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14265
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَاسْتَأْذَنَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: ارْجِعْ فَإِنَّا مَشَاغِيلُ عَنْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَدْرِي مَنْ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ؟ هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ، ادْخُلْ رَاشِدًا". فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ. قَالَ:" أَيْنَ جِبْرِيلُ؟". قَالَ: لَيْسَ هُوَ قَرِيبٌ مِنِّي، الْآنَ يَأْتِي. فَخَرَجَ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ قَائِمٌ بِالْبَابِ: مَا أَخْرَجَكَ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: الْتَمَسَكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا جَلَسَا قَالَ جِبْرِيلُ: سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، هَذَا وَدَاعٌ مِنِّي وَمِنْكَ.
فَبَلَغَنِي أَنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ قَبْلَهُ، وَلَا يُسَلِّمُ بَعْدَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
فَبَلَغَنِي أَنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ قَبْلَهُ، وَلَا يُسَلِّمُ بَعْدَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ملک الموت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیماری کے دوران آیا، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا، اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم واپس چلے جاؤ! کیونکہ ہم ابھی تم سے ملنے کے حوالے سے مصروف ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوالحسن! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ یہ ملک الموت ہے (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:) تم کامیابی کے ساتھ اندر آ جاؤ، جب وہ اندر آئے، تو اس نے کہا: آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا: ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: جبرائیل کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ میرے قریب نہیں ہیں، ابھی وہ آ جاتے ہیں، پھر ملک الموت باہر چلا گیا، یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دروازے پر کھڑے ہو کر ان سے دریافت کیا: اے ملک الموت تم باہر کیوں آ گئے ہو؟ اس نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلب کر رہے ہیں، جب وہ دونوں بیٹھ گئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ پر سلام ہو، یہ میری طرف سے اور آپ کی طرف سے الوداعی ہے۔ راوی کہتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کو سلام نہیں کیا، اور آپ کے بعد بھی وہ کسی کو سلام نہیں کرے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14265]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14265]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12708)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14266
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَقُلَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ:" ادْنُ مِنِّي، ادْنُ مِنِّي". فَأَسْنَدَهُ إِلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى تُوَفِّيَ، فَلَمَّا قُضِيَ قَامَ عَلِيٌّ وَأَغْلَقَ الْبَابَ، وَجَاءَ الْعَبَّاسُ وَمَعَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَامُوا عَلَى الْبَابِ، فَجَعَلَ عَلِيٌّ يَقُولُ: بِأَبِي أَنْتَ طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا، وَسَطَعَتْ رِيحٌ طَيِّبَةٌ لَمْ يَجِدُوا مَثَلَهَا، فَقَالَ: إِيهًا دَعْ حَنِينًا كَحَنِينِ الْمَرْأَةِ، وَأَقْبِلُوا عَلَى صَاحِبِكُمْ. قَالَ عَلِيٌّ: أَدْخِلُوا عَلَيَّ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ. فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَشَدْنَاكُمْ بِاللَّهِ وَنَصِيبِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَدْخَلُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ يَحْمِلُ جَرَّةً بِإِحْدَى يَدَيْهِ، فَسَمِعُوا صَوْتًا فِي الْبَيْتِ: لَا تُجَرِّدُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاغْسِلُوهُ كَمَا هُوَ فِي قَمِيصِهِ، فَغَسَلَهُ عَلِيٌّ يُدْخِلُ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْقَمِيصِ، وَالْفَضْلُ يُمْسِكُ الثَّوْبَ عَنْهُ، وَالْأَنْصَارِيُّ يَنْقُلُ الْمَاءَ، وَعَلَى يَدِ عَلِيٍّ خِرْقَةٌ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ الْقَمِيصِ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَةَ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَةَ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی، آپ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا: میرے قریب آ جاؤ! میرے قریب آ جاؤ! انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی اس کے بعد وہ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا، جب ایسا ہو گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اُٹھے، انہوں نے دروازہ بند کیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے، ان کے ساتھ جناب عبدالمطلب کی اولاد کے افراد تھے، وہ لوگ دروازے پر کھڑے ہو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کیا: میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے، اور مرنے کے بعد بھی پاکیزہ ہیں، آپ کی طرف سے پاکیزہ خوشبو اوپر گئی ہے، ان لوگوں نے اس کی مانند کبھی کوئی چیز نہیں پائی تھی، پھر انہوں نے کہا: ارے عورتوں کی طرح رونا چھوڑو اور اپنے آقا کی طرف متوجہ ہو جاؤ، پھر فضل بن عباس کو میرے پاس بھیجو، انصار نے کہا: ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں، اور اللہ کے رسول کی بارگاہ میں ہمیں جو قرب حاصل تھا، اس کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے بھی ایک شخص کو اندر لے جائیں، ان صاحب کا نام سیدنا اوس بن خولی رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے مٹکے کو ایک طرف سے اٹھایا ہوا تھا، انہوں نے گھر میں یہ آواز سنی کہ تم لوگ اللہ کے رسول کے کپڑے نہ اتارو، اور تم انہیں کپڑوں میں ہی غسل دے دو، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قمیص کے اندر ہاتھ داخل کر کے آپ کو غسل دیا، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کپڑے کو تھامے ہوئے تھے، اور انصاری شخص پانی منتقل کر رہا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک کپڑا تھا، جسے وہ قمیص کے نیچے اپنے ہاتھ کے ساتھ داخل کر رہے تھے۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے، اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14266]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے، اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14266]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (629)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14267
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَوْصَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَغْسِلَهُ أَحَدٌ غَيْرِي" فَإِنَّهُ لَا يَرَى عَوْرَتِي أَحَدٌ إِلَّا طُمِسَتْ عَيْنَاهُ". قَالَ عَلِيٌّ: فَكَانَ الْعَبَّاسُ وَأُسَامَةُ، يُنَاوِلَانِي الْمَاءَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے علاوہ اور کوئی غسل نہ دے، آپ نے فرمایا تھا: جو شخص بھی میری شرمگاہ کو دیکھے گا، اس کی بینائی ختم ہو جائے گی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ مجھے پردے کے پیچھے سے پانی پکڑا رہے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن بلال ہے، بخاری کہتے ہیں: اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14267]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن بلال ہے، بخاری کہتے ہیں: اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14267]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (848)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14268
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ، ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ، ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَتُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ".
فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ، فَقُلْتُ: قَدْ قُضِيَ. قَالَتْ: فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ. قَالَتْ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ وَنَظَرَ، قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، فَقَالَ: مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ.
فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ، فَقُلْتُ: قَدْ قُضِيَ. قَالَتْ: فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ. قَالَتْ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ وَنَظَرَ، قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، فَقَالَ: مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی جان قبض ہوتی ہے، پھر وہ ثواب دیکھتا ہے، پھر وہ جان اس کی طرف لوٹا دی جاتی ہے، پھر اسے یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ یا تو اس جان کو لوٹا دیا جائے، یا پھر یہ ہے کہ وہ آگے چلا جائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے یہ بات یاد رکھی ہوئی تھی، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، میں آپ کی طرف دیکھ رہی تھی، اس دوران آپ کی گردن ڈھلک گئی، میں نے سوچا شاید آپ کا انتقال ہو گیا ہے، لیکن پھر مجھے وہ بات یاد آ گئی، جو آپ نے ارشاد فرمائی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، آپ اُٹھے، آپ نے نظر کی، میں نے کہا: ایسی صورت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار نہیں کریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں رفیق اعلیٰ کا ساتھ چاہتا ہوں، ان لوگوں کا ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، جن کا تعلق انبیاء اور صدیقین سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔“۔ یہ آیت کے آخر تک تلاوت کیا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14268]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (74/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14269
وَفِي رِوَايَةٍ:" الرَّفِيقِ الْأَعْلَى الْأَسْعَدِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي. قَالَتْ: وَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ رُوحَهُ. قَالَتْ: وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْأَنْبِيَاءِ، فَتَحَرَّكَ فَقُلْتُ: إِنْ خُيِّرْتَ الْيَوْمَ فَلَنْ تَخْتَارَنَا.
وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي. قَالَتْ: وَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ رُوحَهُ. قَالَتْ: وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْأَنْبِيَاءِ، فَتَحَرَّكَ فَقُلْتُ: إِنْ خُيِّرْتَ الْيَوْمَ فَلَنْ تَخْتَارَنَا.
وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ رفیق اعلیٰ جو سب سے زیادہ سعادت والا ہے۔“
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینے کے درمیان ہوا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا یہ گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو آپ کی طرف واپس کرے گا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انبیاء کرام کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرکت کی، تو میں نے سوچا کہ اگر آج آپ کو اختیار دیا بھی گیا، تو آپ ہمیں اختیار نہیں کریں گے۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14269]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینے کے درمیان ہوا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا یہ گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو آپ کی طرف واپس کرے گا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انبیاء کرام کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرکت کی، تو میں نے سوچا کہ اگر آج آپ کو اختیار دیا بھی گیا، تو آپ ہمیں اختیار نہیں کریں گے۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14269]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (120/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14270
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ مَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اور جب آپ کی جان نکلی، تو میں نے اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14270]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14270]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (851)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14271
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتْرًا، وَفَتَحَ بَابًا فِي مَرَضِهِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ يُصَلُّونَ خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُصَابَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِ بِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ - وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ - وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ - وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ - وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران پردہ ہٹایا اور دروازہ کھولا اور لوگوں کی طرف دیکھا، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے، آپ اس بات پر خوش ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد، اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے، کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت کے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی۔“ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میرے بعد جس کسی کو جس مصیبت کا سامنا کرنا پڑے، تو وہ میری مصیبت کے حوالے سے اپنی اس مصیبت میں خود کو دلاسہ دے، جو مصیبت اسے لاحق ہو گی، کیونکہ میرے بعد میری امت کو میری جدائی جیسی مصیبت کبھی لاحق نہیں ہو گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے، جو علی بن مدینی کا والد ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14271]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے، جو علی بن مدینی کا والد ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14271]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف