🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

74. بَابٌ .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14272
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ، فَأَفَاقَ وَهِيَ تَمْسَحُ صَدْرَهُ، وَتَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ قَالَ:" لَا. وَلَكِنْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ، جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی، آپ اس وقت سیدہ عائشتہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں اور آپ کے لئے شفاء کی دعا کر رہی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ سعادت مند رفیق اعلیٰ، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کا سوال کرتا ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام جمحی ہے، اور وہ ثقہ ہے، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14272]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14273
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ - أَوْ أَبِي عَسِيمٍ - قَالَ بَهْزٌ: شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا. قَالَ: فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ. قَالَ: فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ: قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ، فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَغَمَسَ قَدَمَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَهِيلُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ. فَأَهَالُوا عَلَيْهِ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ: أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ، یا شاید سیدنا ابوعسیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بہز نامی راوی کہتے ہیں: انہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے، لوگوں نے یہ کہا: کہ ہم آپ کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگ ٹولیوں کی شکل میں اندر داخل ہو جاؤ، پھر وہ لوگ اس دروازے سے داخل ہوتے تھے، آپ کے لئے دعائے رحمت کرتے تھے، پھر دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لحد میں رکھا گیا، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے پاؤں میں سے کوئی چیز باقی رہ گئی ہے، جس کو انہوں نے ٹھیک نہیں کیا، لوگوں نے کہا: آپ اندر جائیں اور اسے ٹھیک کر دیں، وہ اندر گئے، انہوں نے اپنا ہاتھ داخل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھوا اور بولے: اس پر مٹی ڈالو! انہوں نے وہاں پر مٹی ڈالی، یہاں تک کہ وہ آپ کی نصف پنڈلیوں تک پہنچ گئے، پھر وہ باہر آ گئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ تم سب کے مقابلے میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات میری ہوئی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14273]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (81/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14274
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي، فَأَضَعُ ثَوْبِي وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے گھر کے اس حصے میں داخل ہوتی تھی، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تھی اور میرے والد کی قبر تھی، تو میں سر پر چادر نہیں لیتی تھی اور یہ کہتی تھی: ایک میرے شوہر ہیں اور ایک میرے والد ہیں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا، تو اللہ کی قسم! میں جب بھی اس حصے میں داخل ہوتی تھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے چادر اوڑھ کر رکھتی تھی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14274]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (202/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14275
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ قَبْرَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ، وَالْفَضْلُ، وَشَقَّ لَحَدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَهُوَ الَّذِي شَقَّ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ.
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْعَبَّاسِ، وَلَا الَّذِي شَقَّ لَحْدَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَيُّوبَ بْنِ مَنْصُورٍ، وَقَدْ وَهِمْ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ لَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سیدنا عباس، سیدنا علی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہم داخل ہوئے تھے، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ کی لحد تیار کی تھی، یہ وہی شخص تھا، جس نے غزوہ احد کے موقع پر شہداء کی قبریں تیار کی تھیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے، اور اس میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لحد تیار کرنے والے شخص کا ذکر ہے۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ایوب بن منصور کے حوالے سے نقل کی ہے، اسے اس حدیث میں وہم ہوا ہے، جو روایت امام ابوداؤد نے اس کے حوالے سے نقل کی ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14275]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (855)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14276
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَاحِيَةٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يُقَبِّلُهُ وَيَقُولُ: بِأَبِي وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا. فَلَمَّا خَرَجَ مَرَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلَ الْمُنَافِقِينَ. قَالَ: وَقَدْ كَانُوا اسْتَبْشَرُوا بِمَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَفَعُوا رُؤُوسِهِمْ، فَمَرَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ أَرْبِعْ عَلَى نَفْسِكَ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ مَاتَ، أَلَمْ تَسْمَعِ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: (إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ) (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ) ؟. قَالَ: وَأَتَى الْمِنْبَرَ، فَصَعِدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ إِلَهَكُمُ الَّذِي تَعْبُدُونَ فَإِنَّ إِلَهَكُمْ قَدْ مَاتَ، وَإِنْ كَانَ إِلَهُكُمُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ فَإِنَّ إِلَهَكُمْ حَيٌّ لَا يَمُوتُ. ثُمَّ تَلَا: (وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ) الْآيَةَ.
ثُمَّ نَزَلَ وَقَدِ اسْتَبْشَرَ الْمُؤْمِنُونَ بِذَلِكَ، وَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ، وَأَخَذَ الْمُنَافِقُونَ الْكَآبَةَ.
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا كَانَتْ عَلَى وُجُوهِنَا أَغْطِيَةٌ فَكُشِفَتْ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے منہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر رکھا اور آپ کو بوسہ دینے لگے اور یہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی اور موت، ہر حال میں پاکیزہ ہیں، جب وہ باہر نکلے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جو یہ کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا، اور آپ کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تک آپ منافقین کو قتل نہیں کر دیتے، وہ یہ کہہ رہے تھے: منافقین، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی وجہ سے خوشخبری حاصل کریں گے، اور اپنے سر اٹھا لیں گے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور بولے: اے شخص! اپنے آپ پر ق ابورکھو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے: ”بے شک تم میت ہو اور بے شک وہ لوگ بھی میت ہیں۔“ اور ہم نے تم سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا نہیں رکھا، اگر تم مر جاؤ، تو کیا وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر کے پاس آئے، وہ منبر پر چڑھے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی: ”اے لوگو! اگر سیدنا محمد تمہارے معبود تھے، جن کی تم عبادت کرتے تھے، تو تمہارے معبود کا انتقال ہو گیا ہے، اور اگر تمہارا معبود وہ ہے، جو آسمان میں ہے، تو تمہارا معبود زندہ ہے، اسے موت نہیں آئے گی“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”محمد صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔“۔ پھر وہ منبر سے نیچے اتر آئے، مسلمانوں نے اس بات کے حوالے سے اطمینان حاصل کیا اور ان کی تسلی ہو گئی اور منافقین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اس ذات قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہمارے چہروں پر پردہ تھا، اور وہ ہٹا دیا گیا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف علی بن منذر کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14276]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (852)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14277
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيُعَزِّي النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنْ بَعْدِي تَعْزِيَةَ نَبِيٍّ".
وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ: مَا هَذَا؟ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ بَعْضُنَا بَعْضًا يُعَزِّي بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد لوگ ایک دوسرے کے ساتھ، نبی کے حوالے سے تعزیت کریں گے۔“ لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے اور ایک دوسرے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تعزیت کرتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور ان دونوں کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف موسیٰ بن یعقوب زمعی کا معاملہ مختلف ہے، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14277]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7547) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5757)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14278
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: مَا عَدَا وَارَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التُّرَابِ، فَأَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی میں دفن کر دیا، تو ہمیں اپنے دلوں کی حالت تبدیل محسوس ہونے لگی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14278]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (852)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14279
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حِجْرِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ. فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ. وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ مَرْفُوعًا أَنَّهَا قَصَّتْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ أَوَّلَهُ بِهَذَا فِي بَابِ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند اتر کر میری گود میں آ گئے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچ ثابت ہوا، تو تمہارے گھر میں اہل زمین کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے عائشہ! یہ تمہارے چاندوں میں سب سے بہتر ہیں، (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر (بعد میں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے گھر میں دفن کیا گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں، یہ انہوں نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے، معجم کبیر کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے یہ مرفوع حدیث گزر چکی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر بیان کی تھی، یہ خوابوں کی تعبیر سے متعلق باب میں گزری ہے، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14279]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14280
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَرْثِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
لَهْفَ نَفْسِي وَبِتُّ كَالْمَسْلُوبِ أَرْقُبُ اللَّيْلَ فِعْلَةَ الْمَحْرُوبِ مِنْ هُمُومٍ وَحَسْرَةٍ أَرَّقَتْنِي
لَيْتَ أَنِّي سُقِيتُهَا بِشَعُوبِ حِينَ قَالُوا إِنَّ الرَّسُولَ قَدْ أَمْسَى
وَافَقَتْهُ مَنِيَّةُ الْمَكْتُوبِ حِينَ جِئْنَا لِآلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ
فَأَشَابَ الْقَذَالَ مِنِّي مَشِيبُ حِيَنَ رَيْنَا بِيُوتَهُ مُوحِشَاتٍ
لَيْسَ فِيهِنَّ بَعْدُ عَيْشُ غَرِيبِ فَعَرَانِي لِذَاكَ حُزْنٌ طَوِيلٌ
خَالَطَ الْقَلْبَ فَهْوَ كَالْمَرْعُوبِ.
وَقَالَتْ أَيْضًا:
أَلَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتَ رَخَاءَنَا وَكُنْتَ بِنَا بَرًّا وَلَمْ تَكُ جَافِيَا
وَكَانَ بِنَا بَرًّا رَحِيمًا نَبِيُّنَا لِيَبْكِ عَلَيْكَ الْيَوْمَ مَنْ كَانَ بَاكِيَا
لَعَمْرِي مَا أَبْكِي النَّبِيَّ لِمَوْتِهِ وَلَكِنْ لِهَرْجٍ كَانَ بَعْدَكَ آتِيَا
كَأَنَّ عَلَى قَلْبِي لِفَقْدِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ حُبِّهِ مِنْ بَعْدِ ذَاكَ الْمَكَاوِيَا
أَفَاطِمُ صَلَّى اللَّهُ رَبُّ مُحَمَّدٍ عَلَى جَدَثٍ أَمْسَى بِيَثْرِبَ ثَاوِيَا
أَرَى حَسَنًا أَيْتَمْتَهُ وَتَرَكْتَهُ يَبْكِي وَيَدْعُو جَدَّهُ الْيَوْمَ نَائِيَا
فِدًى لِرَسُولِ اللَّهِ أُمِّي وَخَالَتِي وَعَمِّي وَنَفْسِي قَصْرُهُ وَعِيَالِيَا
صَبَرْتَ وَبَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ صَادِقًا وَمِتَّ صَلِيبَ الدِّينِ أَبْلَجَ صَافِيَا
فَلَوْ أَنَّ رَبَّ الْعَرْشِ أَبْقَاكَ بَيْنَنَا سَعِدْنَا وَلَكِنْ أَمْرُهُ كَانَ مَاضِيَا
عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ السَّلَامُ تَحِيَّةً وَأُدْخِلْتَ جَنَّاتٍ مِنَ الْعَدْنِ رَاضِيَا
.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عروہ بیان کرتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی جان) سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں: ”میری جان غمگین ہے، اور میں نے یوں رات گزاری ہے، جیسے کسی کی کوئی چیز چھین لی گئی ہو، میں رات بھر جاگتی رہی ہوں، جیسے وہ شخص کام کرتا ہے، جو جنگ کا شکار ہوا ہو، پریشانیوں اور حسرت کی وجہ سے میری حالت خراب ہو گئی، افسوس کہ مجھے یہ پریشانیاں اس وقت ملی ہیں، جب موت کی اطلاع ملی، جب لوگوں نے یہ کہا: کل شام تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق موت، رسول تک آ گئی، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس آئے، تو سر کے پچھلے حصے کے بال بھی سفید ہو چکے تھے، جب ہم نے ان کے گھروں کو دیکھا کہ ان میں وحشت ہے، اور ان کے بعد ان گھروں میں ایسی زندگی ہے، جو نامانوس ہے، تو اس وجہ سے مجھے طویل غم درپیش ہو گیا، جو دل کے ساتھ یوں گھل مل گیا، جیسے وہ مرغوب کی مانند ہو“ انہوں نے یہ بھی کہا: ”یا رسول اللہ! آپ ہماری سہولت تھے اور آپ ہم پر مہربانی کرنے والے تھے، اور آپ پہلو تہی کرنے والے نہیں تھے، ہمارے نبی ہم پر مہربان تھے، رحم کرنے والے تھے، تو آج کے دن ہر رونے والے کو آپ پر رونا چاہیے، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے، میں نبی کی موت پر نہیں رو رہی ہوں، بلکہ اس پریشانی پر رو رہی ہوں، جو آپ کے بعد آئے گی، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی پر میرا دل یوں ہے کہ ان کی محبت کی وجہ سے وہ داغ لگانے والا گرم آلہ بن گیا ہے، اے فاطمہ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار، اللہ تعالیٰ، ان پر درود نازل کرے، جنہوں نے یثرب میں (آخری) ٹھکانہ بنا لیا ہے، میں نے حسن کو دیکھا ہے کہ آپ نے اسے یتیم کر کے چھوڑا ہے، اور وہ رو رہا ہے، اور اپنے نانا کو بلا رہا ہے، میری ماں، میری خالہ، میری پھوپھی اور میں، اللہ کے رسول پر فدا ہو جائیں، آپ نے صبر سے کام لیا اور سچائی کے ساتھ رسالت کی تبلیغ کر دی، اور آپ کا انتقال ایسی حالت میں ہوا، کہ دین مضبوط واضح اور صاف ہے، اگر آپ کا پروردگار، آپ کو ہمارے درمیان باقی رہنے دیتا، تو یہ ہماری خوش نصیبی ہوتی، لیکن اس کا فیصلہ پورا ہو کر رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر سلام ہو، جو تحیت کے طور پر ہو، اور آپ کو ایسی حالت میں ”جنت عدن“ میں داخل کیا جائے، کہ آپ راضی ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14280]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (203/20)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14281
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَتْ صَفِيَّةُ تَلْمَعُ بِرِدَائِهَا، وَهِيَ تَقُولُ:
قَدْ كَانَ بَعْدَكَ أَنْبَاءٌ وَهَنْبَثَةٌ لَوْ كُنْتَ شَاهِدَهَا لَمْ يَكْثُرِ الْخُطَبُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يُدْرِكْ صَفِيَّةَ.
امام محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ (یعنی امام باقر رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنی چادر کو اوڑھ کر نکلیں اور وہ یہ کہہ رہی تھیں: ”آپ کے بعد ایسی خبریں اور مشکلات آ گئی ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس موجود ہوتے تو زیادہ پریشانی نہیں ہونی تھی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، تاہم امام محمد (یعنی امام باقر) نامی راوی نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14281]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (31/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں