🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1. تميم بن أوس الداري ويقال: ابن قيس يكنى أبا رقية وهو عم تميم بن أوس بن خارجة بن سواد بن جذيمة بن دراع بن عدي بن الدار بن لخم بن حبيب بن نمارة بن لخم
سیدنا تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ، اور ابن قیس بھی کہا جاتا ہے، کنیت ابورقیہ، اور وہ تمیم بن اوس بن خارجہ بن سواد بن جذیمہ بن دراع بن عدی بن دار بن لخم بن حبیب بن نمارہ بن لخم کے چچا ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1236
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ أَسْرَجَ فِي الْمَسْجِدِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مسجد میں سب سے پہلے چراغ روشن کرنے والے تمیم داری رضی اللہ عنہ تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 49، حدیث 1247»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: «أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، اشْتَرَى رِدَاءً بِأَلْفٍ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ»
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ”تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ہزار درہم میں خریدی، تو وہ اسی میں نماز پڑھتے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 49، حدیث 1248»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ فِي الْقَصَصِ، فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ» ، يَعْنِي الذَّبْحَ
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قصے (وعظ) سنانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، پھر دوبارہ اجازت مانگی تو پھر انکار کر دیا، پھر تیسری بار اجازت مانگی تو انہوں نے کہا: ”اگر تم چاہو“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، یعنی ذبح کرنے کا اشارہ۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 49، حدیث 1249»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ: هَذَا مَقَامُ أَخِيكَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: «لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَامَ لَيْلَةً، حَتَّى أَصْبَحَ، أَوْ كَرِبَ، أَنْ يُصْبِحَ يَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَرْكَعُ، وَيَسْجُدُ، وَيَبْكِي» {أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ، أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا، وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، سَوَاءٌ مَحْيَاهُمْ، وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ} [الجاثية: ٢١]
مسروق بیان کرتے ہیں: مکہ کے ایک آدمی نے مجھ سے کہا: یہ تمہارے بھائی تمیم داری کا مقامِ عبادت ہے: ”میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک رات کھڑے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی، یا صبح ہونے کے قریب تھی، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کی ایک آیت پڑھتے، پھر رکوع کرتے، سجدہ کرتے اور روتے رہے“ (وہ آیت یہ تھی): ”کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائیں، یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، کہ ان کا جینا اور مرنا برابر ہو جائے؟ کیسا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں“ [سورۃ الجاثیہ: 21] [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 50، حدیث 1250»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ:" أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، رَدَّدَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحَ، {أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ} [الجاثية: ٢١] الْآيَةَ"
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ یہ آیت صبح تک دہراتے رہے: ”کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، کہ ان کا جینا اور مرنا برابر ہو جائے؟ کیا ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔“ [سورۃ الجاثیہ: 21] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 50، حدیث 1251»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں