المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. تميم بن أوس الداري ويقال: ابن قيس يكنى أبا رقية وهو عم تميم بن أوس بن خارجة بن سواد بن جذيمة بن دراع بن عدي بن الدار بن لخم بن حبيب بن نمارة بن لخم
سیدنا تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ، اور ابن قیس بھی کہا جاتا ہے، کنیت ابورقیہ، اور وہ تمیم بن اوس بن خارجہ بن سواد بن جذیمہ بن دراع بن عدی بن دار بن لخم بن حبیب بن نمارہ بن لخم کے چچا ہیں
حدیث نمبر: 1240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ:" أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، رَدَّدَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحَ، {أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ} [الجاثية: ٢١] الْآيَةَ"
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ یہ آیت صبح تک دہراتے رہے: ”کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، کہ ان کا جینا اور مرنا برابر ہو جائے؟ کیا ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔“ [سورۃ الجاثیہ: 21] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 50، حدیث 1251»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 1240 in Urdu