المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. جعفر بن أبي طالب الطيار في الجنة، رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله، وأمه فاطمة بنت أسد بن هاشم
سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جنت میں اڑنے والے (طیار)، کنیت ابوعبداللہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں
حدیث نمبر: 1444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعْفَرًا إِلَى مُؤْتَةَ، فِي جُمَادَى سَنَةَ ثَمَانٍ»
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو آٹھ ہجری کے جمادیٰ (کے مہینے) میں موتہ کی طرف بھیجا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 104، حدیث 1457»
حدیث نمبر: 1445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا طَاهِرُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: «أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، تَخَتَّمَ فِي يَمِينِهِ»
جعفر بن عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 105، حدیث 1458»
حدیث نمبر: 1446
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَصْحَابَ مُؤْتَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، رَجُلًا رَجُلًا، بَدَأَ بِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ثُمَّ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ثُمَّ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، رَحِمَهُمُ اللهُ قَالَ: «فَأَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کے شہداء کی موت کی خبر منبر پر ایک ایک کر کے دی، پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے شروع کیا، پھر سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے، پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے، اللہ ان سب پر رحم فرمائے، پھر فرمایا: ”پھر پرچم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا، اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 105، حدیث 1459»
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَى زَيْدًا، وَصَاحِبَيْهِ، قَبْلَ أَنْ يأْتِيَهُ الْخَبَرُ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید اور ان کے دونوں ساتھیوں (کی شہادت) کی خبر، خبر پہنچنے سے پہلے ہی دے دی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 105، حدیث 1460»
حدیث نمبر: 1448
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَيْشًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ: «فَإِنْ قُتِلَ، وَاسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنْ قُتِلَ، وَاسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ» فَانْطَلَقُوا فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَفَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ، فَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، - أَوِ اسْتُشْهِدَ - ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، - أَوِ اسْتُشْهِدَ - ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، أَوِ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ» ، ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا، أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: «لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ بَعْدَ الْيَوْمِ» ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُوا بَنِي أَخِي» ، فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: «ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ» ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا عَوْنُ فَشَبِيهُ خَلْقِي، وَخُلُقِي» ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَالَها، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَخْلِفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ، وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ» ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ يُتْمَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ، وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَالْآخِرَةِ»
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا: ”اگر وہ قتل ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تمہارے امیر جعفر بن ابی طالب ہوں گے، اگر وہ قتل ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تمہارے امیر عبداللہ بن رواحہ ہوں گے۔“ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور دشمن سے ملے، تو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا تو اللہ عزوجل نے ان کے ذریعے فتح عطا فرمائی۔ ان کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”امابعد! تمہارے بھائی دشمن سے ملے، سیدنا زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے - یا شہید ہو گئے - پھر سیدنا جعفر نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے - یا شہید ہو گئے - پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے، یا شہید ہو گئے، پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار، سیدنا خالد بن ولید نے اٹھایا تو اللہ نے ان کے ذریعے فتح دی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین دن مہلت دی کہ ان کے پاس تشریف لائیں، پھر ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”آج کے بعد اس پر نہ رونا۔“ پھر فرمایا: ”میرے بھتیجوں کو بلاؤ“، تو ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے حجام کو بلاؤ“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اور اس نے ہمارے سر مونڈ دیے، پھر فرمایا: ”محمد تو ہمارے چچا ابوطالب سے مشابہ ہے، اور عون میری صورت اور میری سیرت سے مشابہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! جعفر کے گھر والوں میں ان کا نعم البدل بن جا، اور عبداللہ کے سودے میں برکت ڈال“، تین بار یہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہماری والدہ آئیں اور ہماری یتیمی کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں ان پر مفلسی کا خدشہ ہے، جبکہ میں دنیا اور آخرت میں ان کا ولی ہوں؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 105، حدیث 1461»
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي، وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي غَزَاةِ مُؤْتَةَ قَالَ: «وَاللهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ»
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے میرے رضاعی والد نے بتایا، وہ بنو مرہ بن عوف میں سے تھے، اور وہ غزوۂ موتہ میں شریک تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، گویا میں سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جب وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے، پھر لوگوں سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 106، حدیث 1462»
حدیث نمبر: 1450
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَقَالَ: «إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ» قَالَ عَبْدُ اللهِ: «فَكُنْتُ مَعَهُمْ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرًا، فَوَجَدْنَا مَا قَبِلَ مِنْ جِسْمِهِ بِضْعًا وَتِسْعِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ، وَرَمْيَةٍ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ موتہ میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور فرمایا: ”اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر، اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس غزوہ میں ان کے ساتھ تھا، ہم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ہم نے ان کے جسم کے اگلے حصے میں نوے سے زائد زخم پائے، نیزے اور تیر کے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 106، حدیث 1463»
حدیث نمبر: 1451
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الزَّعْفَرَانِيُّ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «فَقَدْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَطَلَبْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى، وَوَجَدْنَا بِهِ نَيِّفًا، وَتِسْعِينَ مَا بَيْنَ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، وَرَمْيَةٍ، وَوَجَدْنَا ذَلِكَ فِيمَا أَقْبَلَ مِنْهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گم پایا تو انہیں تلاش کیا، تو ہم نے انہیں مقتولین میں پایا، اور ہم نے ان کے جسم پر نوے سے زائد زخم پائے، تلوار کی ضرب، نیزے کی چوٹ اور تیر کے، اور یہ سب ہم نے ان کے اگلے حصے میں پائے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 107، حدیث 1464»
حدیث نمبر: 1452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: وَقَفَ عَلَى جَعْفَرٍ يَوْمَئِذٍ، وَهُوَ قَتِيلٌ قَالَ: «فَعَدَدْتُ فِيهِ خَمْسِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ، وَضَرْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ دُبُرِهِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ اس دن سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے جبکہ وہ شہید ہو چکے تھے، انہوں نے کہا: میں نے ان کے جسم پر پچاس زخم گنے، نیزے کی چوٹ اور تلوار کی ضرب کے، اور ان میں سے کوئی زخم ان کی پشت پر نہیں تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 107، حدیث 1465»
حدیث نمبر: 1453
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ الْبَارِحَةَ، فَنَظَرْتُ فِيهَا، وَإِذَا جَعْفَرٌ، يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کل رات جنت میں داخل ہوا، میں نے اس میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جعفر فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 107، حدیث 1466»