🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2. ما أسند جعفر رضي الله عنه
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی مرویات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّيبَاجِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: ثنا أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو الْكُوفِيُّ، ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ، بِهَدِيَّةٍ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ، إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَقَالُوا لَهُ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ: قَدْ بَعَثُوا إِلَيْكَ أُنَاسًا مِنْ سَفَلَتِنَا، وسُفَهَائِهِمْ فَادْفَعْهُمْ إِلَيْنَا، قَالَ: لَا، حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا، وَقَالَ: مَا تَقُولُونَ؟، فَقُلْنَا: إِنَّ قَوْمَنَا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَآمَنَّا بِهِ، وَصَدَّقْنَاهُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ: عَبِيدًا هُمْ لَكُمْ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَلَكُمْ عَلَيْهِمْ دَيْنٌ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ فِي عِيسَى، غَيْرَ مَا تَقُولُونَ، قَالَ: إِنْ لَمْ يَقُولُوا فِي عِيسَى، مِثْلَ مَا أَقُولُ لَمْ أَدَعْهُمْ فِي أَرْضِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَكَانَتِ الدَّعْوَةُ الثَّانِيَةُ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنَ الْأُولَى، فَقَالَ: مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؟ فَقُلْنَا: هُوَ يَقُولُ: هُوَ رُوحُ اللهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ، فَقَالَ: ادْعُوا فُلَانًا الْقَسَّ، وَفُلَانًا الرَّاهِبَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؟ فَقَالُوا: أَنْتَ أَعْلَمُنَا، فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ النَّجَاشِيُّ: فَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا عِيسَى مَا زَادَ عَلَى مَا قَالَ هَؤُلَاءِ مِثْلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُؤْذِيكمْ أَحَدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ آذَى أَحَدًا مِنْهُمْ، فَأَغْرِمُوهُ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قَالَ: يَكْفِيكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، فَأَضْعَفَها، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَظَهَرَ بِهَا، قُلْنَا لَهُ: إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَظَهَرَ بِهَا، وَهَاجَرَ، وَقَتَلَ الَّذِينَ كُنَّا حَدَّثْنَاكَ عَنْهُمْ، وَقَدْ أَرَدْنَا الرَّحِيلَ إِلَيْهِ، فَزَوِّدْنَا، قَالَ: نَعَمْ، فَحَمَّلَنَا، وَزَوَّدَنَا، وأَعْطَانا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْ صَاحِبَكَ، مَا صَنَعْتُ إِلَيْكُمْ، وَهَذَا رَسُولِي مَعَكَ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي، قَالَ جَعْفَرٌ: فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَنَقَنِي، فَقَالَ: «مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَوْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ» ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ، فَقَالَ: هُوَ ذَا جَعْفَرٌ، فَسَلْهُ مَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَدْ فَعَلَ بِنَا كَذَا، وَحَمَّلَنَا، وَزَوَّدَنَا، ونَصَرَنَا، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، وَقَالَ: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ» ، فَقَالَ: الْمُسْلِمُونَ آمِينَ قَالَ جَعْفَرٌ: فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: انْطَلِقْ، فَأَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ، مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ آدَمَ
سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریش نے سیدنا عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو ابوسفیان کی طرف سے ایک تحفہ دے کر نجاشی کے پاس بھیجا، تو ان دونوں نے نجاشی سے کہا، جبکہ ہم اس کے پاس موجود تھے: انہوں نے ہمارے کچھ کمینے اور بیوقوف لوگ آپ کے پاس بھیجے ہیں، انہیں ہمارے حوالے کر دیجیے۔ نجاشی نے کہا: نہیں، جب تک میں ان کی بات نہ سن لوں۔ چنانچہ اس نے ہمیں بلوایا اور کہا: تم کیا کہتے ہو؟ ہم نے کہا: ہماری قوم بتوں کی پوجا کرتی ہے، اور اللہ عزوجل نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا تو ہم ان پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی۔ نجاشی نے ان سے کہا: کیا یہ تمہارے غلام ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ان پر تمہارا کوئی قرض ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: تو انہیں چھوڑ دو، چنانچہ ہم اس کے پاس سے نکل آئے۔ اس پر عمرو بن عاص نے کہا: یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہ بات کہتے ہیں جو آپ نہیں کہتے۔ نجاشی نے کہا: اگر یہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی نہیں کہتے جو میں کہتا ہوں تو میں انہیں دن کی ایک گھڑی بھی اپنی سرزمین میں نہیں رہنے دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اس نے ہمیں بلوایا، تو یہ دوسری دعوت پہلی سے کہیں زیادہ سخت تھی۔ اس نے کہا: تمہارا ساتھی عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے پاکباز کنواری کی طرف القا کیا۔ راوی کہتے ہیں: اس پر نجاشی نے کہا: فلاں پادری اور فلاں راہب کو بلاؤ، تو ان میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئے، اس نے کہا: تم عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں، آپ کیا کہتے ہیں؟ نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور کہا: عیسیٰ بس اتنے ہی ہیں، ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جو ان لوگوں نے کہا۔ پھر ان سے کہا: کیا تمہیں کوئی تکلیف پہنچاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ اس نے ایک منادی کو حکم دیا اور اس نے اعلان کیا: جو ان میں سے کسی کو تکلیف پہنچائے، اس پر چار درہم جرمانہ ہوگا۔ پھر اس نے کہا: کیا یہ تمہارے لیے کافی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، تو اس نے اسے دگنا کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر گئے اور وہاں غالب آ گئے، تو ہم نے نجاشی سے کہا: ہمارے ساتھی مدینہ کی طرف نکل گئے ہیں اور وہاں غالب آ گئے ہیں اور ہجرت کر گئے ہیں، اور انہوں نے ان لوگوں کو قتل کر دیا جن کا ہم نے آپ سے ذکر کیا تھا، اور ہم نے ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا ہے، ہمیں زادِ راہ دیجیے۔ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ اس نے ہمیں سواری دی، زادِ راہ دیا، اور ہمیں عطیہ دیا، پھر کہا: اپنے ساتھی کو بتانا کہ میں نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا، اور یہ میرا قاصد تمہارے ساتھ ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ اللہ کے رسول ہیں، تو ان سے کہنا کہ وہ میرے لیے استغفار کریں۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا استقبال کیا اور مجھے گلے لگایا، پھر فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ میں خیبر کی فتح پر زیادہ خوش ہوں یا جعفر کی آمد پر“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، تو نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا اور کہا: یہ جعفر ہیں، ان سے پوچھیں کہ ہمارے ساتھی (نجاشی) نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ میں نے کہا: ہاں، اس نے ہمارے ساتھ ایسا ایسا کیا، ہمیں سواری دی، زادِ راہ دیا، ہماری مدد کی، اور اس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اور کہا: ان سے کہو کہ وہ میرے لیے استغفار کریں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، وضو فرمایا، پھر تین بار دعا کی: ”اے اللہ! نجاشی کو بخش دے“، تو مسلمانوں نے آمین کہی۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے قاصد سے کہا: جاؤ اور اپنے ساتھی کو بتاؤ جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 110، حدیث 1478»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ سَأَلَهُ مَا دِينُكُمْ؟ قَالَ:" بُعِثَ فِينَا رَسُولٌ نَعْرِفُ لِسَانَهُ، وَصِدْقَهُ، وَوَفَاءَهُ، فَدَعَانَا إِلَى أَنْ نَعْبُدَ اللهَ، وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَخَلَعَ مَا كَانَ يَعْبُدُ قَوْمُنَا، وَغَيْرُهمْ مِنْ دُونِهِ يَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ، وَالصِّيَامِ، وَالصَّدَقَةِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، فَدَعَانَا إِلَى مَا نَعْرِفُ، وَقَرَأَ عَلَيْنَا تَنْزِيلًا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللهِ، لَا يُشْبِهُهُ غَيْرُهُ، فَصَدَّقْنَاهُ، وَآمَنَّا بِهِ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ، فَفَارَقَنا عِنْدَ ذَلِكَ قَوْمُنَا، فَآذَوْنَا، وقَهَرُونا، فَلَمَّا أَنْ بَلَغُوا مِنَّا مَا نَكْرَهُ، وَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَنْ نَمْتَنِعَ مِنْهُمْ، خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: اذْهَبُوا، فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي، يَقُولُ آمِنُونَ مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ"
سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشی نے ان سے پوچھا: تمہارا دین کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم میں ایک رسول بھیجا گیا جس کی زبان، سچائی اور امانت کو ہم پہچانتے ہیں، اس نے ہمیں اس بات کی دعوت دی کہ ہم اکیلے اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور جو کچھ ہماری قوم اور دوسرے لوگ اس کے سوا پوجتے تھے اسے چھوڑ دیں، اور اس نے ہمیں نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا، اور ہمیں نماز، روزہ، صدقہ اور صلہ رحمی کا حکم دیا، تو اس نے ہمیں اس چیز کی دعوت دی جسے ہم پہچانتے تھے، اور ہمیں اللہ کی طرف سے آیا ہوا ایک ایسا کلام پڑھ کر سنایا جس جیسا کوئی اور کلام نہیں، تو ہم نے اس کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لائے، اور جان لیا کہ وہ جو لے کر آیا ہے وہ اللہ کی طرف سے حق ہے، اس پر ہماری قوم ہم سے الگ ہو گئی، انہوں نے ہمیں تکلیف دی اور ہم پر ظلم کیا، جب انہوں نے ہمیں اس حد تک پہنچا دیا جو ہمیں ناپسند تھا، اور ہم ان سے بچنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، تو ہم آپ کے ملک کی طرف نکل آئے، اور آپ کو دوسروں پر ترجیح دی۔ نجاشی نے کہا: جاؤ، تم میری سرزمین میں امن میں ہو، جو تمہیں گالی دے گا اسے تاوان دینا ہوگا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 111، حدیث 1479»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں