🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

176. عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم
عطاء بن یسار کی سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16986
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى غُنَيْمَةٍ تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْهَا شَاةً، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «بَلَى، ائْتِنِي بِهَا» ، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ اللهُ؟» ، فَقَالَتِ: اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «فَمَنْ أَنَا؟» ، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا»
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی بکریوں کی طرف گیا جنہیں میری ایک باندی احد اور جوانیہ کی طرف چرا رہی تھی، تو میں نے دیکھا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری لے گیا ہے، اور میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی ویسا ہی افسوس ہوتا ہے جیسے دوسروں کو ہوتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک تھپڑ مارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت گراں گزری۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اسے میرے پاس لے آؤ۔“ تو میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: اللہ عزوجل آسمان میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مومنہ ہے، اسے آزاد کر دو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16986]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 398، حدیث 937»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16987
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ فِي قِبَلِ أُحُدٍ، إِذْ اطَلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، فَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟، قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا» ، فَجِئْتُ بِهَا فَقَالَ: «أَيْنَ اللهُ؟» ، قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» ، قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ایک باندی تھی جو احد کی طرف کچھ بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک بار میں نے اس کی طرف جھانکا تو دیکھا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری لے گیا ہے، اور میں بھی بنی آدم میں سے ہوں، مجھے بھی ویسے ہی غصہ آتا ہے جیسے دوسروں کو آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت گراں گزری۔ میں نے عرض کیا: کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ۔“ تو میں اسے لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: اللہ کے رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16987]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 398، حدیث 938»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16988
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ایک باندی تھی جو احد کی طرف کچھ بکریاں چرایا کرتی تھی، پھر راوی نے (آگے) مکمل حدیث بیان کی، جیسا کہ اوپر گزر چکی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16988]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 398، حدیث 939»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16989
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي أَنْفُسِكُمْ، فَلَا يَضُرَّكُمْ» ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: «لَا تَأْتُوهُمْ» ، قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «خَطَّ نَبِيٌّ، فَمَنْ وَافَقَ عَلِمَهُ عَلِمَ»
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو تم اپنے دل میں محسوس کرتے ہو، یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس مت جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی لکیر کھینچا کرتے تھے، تو جو اس کے علم کے موافق ہو جائے وہ جان لے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16989]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 399، حدیث 940»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16990
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، فَجَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، فَقَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكُهَّاَنَ، قَالَ: «لَا، فَلَا تَأْتُوهُمْ» ، قَالَ: وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ، قَالَ: «قَدْ كَانَ نَبِيُّ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ»
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ابھی نئے نئے جاہلیت سے نکلے تھے کہ اللہ نے اسلام کے ساتھ ہدایت بھیجی، اور ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، تو یہ انہیں کسی کام سے نہ روکے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ان کے پاس مت جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی لکیر کھینچا کرتے تھے، تو جو اس کی لکیر کے موافق ہو جائے تو ٹھیک ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16990]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 399، حدیث 941»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16991
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةََ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، فَقَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي صُدُورِكُمْ، فَلَا يَضُرَّكُمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتُوهُمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «خَطَّ نَبِيٌّ، فَمَنْ وَافَقَ عَلِمَهُ عَلِمَ»
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو تم اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہو، یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کے پاس مت جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی لکیر کھینچا کرتے تھے، تو جو اس کے علم کے موافق ہو جائے وہ جان لے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16991]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 400، حدیث 942»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16992
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتُوهُمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَضُرُّهُمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ»
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ابھی نئے نئے جاہلیت سے نکلے تھے، اور اللہ نے اسلام کے ساتھ ہدایت بھیجی، اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کے پاس مت جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، یہ انہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی لکیر کھینچا کرتے تھے، تو جو اس کی لکیر کے موافق ہو جائے تو ٹھیک ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16992]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 400، حدیث 943»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16993
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الصَّبَّاحُ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ الْحَكَمِ السُّلَمِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَاءَ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَخُطُّونَ، فَقَالَ: «قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ» ، قَالَ: وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، وَلَكِنْ لَا يَضُرُّهُمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتُوهُمْ»
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ابھی نئے نئے جاہلیت سے نکلے تھے، اور اللہ عزوجل اسلام لے کر آیا، اور ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی لکیر کھینچا کرتے تھے، تو جو اس کی لکیر کے موافق ہو جائے تو ٹھیک ہے۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ انہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔“ میں نے عرض کیا: اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کے پاس مت جاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16993]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 400، حدیث 944»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16994
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، قُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟، قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا سَبَّنِي، وَلَكِنْ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ» .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز میں) تھا کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی، تو میں نے کہا: یَرْحَمُکَ اللہ، اس پر لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: ہائے میری ماں کا غم! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ راوی کہتے ہیں: لوگ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے - میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا بعد میں کوئی معلم آپ سے بہتر تعلیم دینے والا نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا، بلکہ فرمایا: ”ہماری یہ نماز ایسی ہے کہ اس میں لوگوں کی گفتگو میں سے کچھ بھی درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16994]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 401، حدیث 945»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16995
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی، پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی (جیسا کہ اوپر مذکور ہے)۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16995]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 401، حدیث 946»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں